خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 352
352 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 پھر قازقستان کے ایک پروفیسر گنگس گرا کمتولی صاحب ہیں ورلڈ ہسٹری کے پروفیسر ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کا یہ اجتماع جماعت احمدیہ کی تعلیمات کی خوبصورتی اور اس کے حسین نظریات کی کامیابی کی گواہی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ جماعت کے نظریات دوسرے مذاہب کا احترام سکھاتے ہیں۔نیز ایک پر امن خوشیوں بھری زندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔انجام کار یہ نظریات ہی کامیاب ہوں گے۔انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ مسلم جماعت احمدیہ کو تمام نیک مقاصد میں کامیاب کرے۔ہم پہلی دفعہ یہاں آئے ہیں۔ہم نے سوچا بھی نہ تھا کہ اس طرح عزت اور احترام کے ساتھ ہمارا استقبال ہوگا۔جو ہم نے یہاں ان دنوں میں دیکھا ہے اس کی ہم کو توقع نہیں تھی۔پھر قازقستان کے ہی ایک پروفیسر سرگئی مانا کوف صاحب ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی تعلیمات سے متعارف ہونے کی طرف پہلا قدم ہے لیکن یہ معلوم ہو چکا ہے کہ جماعت احمدیہ کی تعلیمات انسانی ہمدردی ، امن ، آشتی اور تمام انبیاء اور مذاہب کے احترام پر مبنی ہیں۔ایسے لوگوں کے درمیان ہونا ایک اعزاز کی بات ہے کہ جنہوں نے حق کو تلاش کر لیا ہے اور اب ساری دنیا تک پہنچانے کے لئے اس حق کو اپنے ساتھ لئے پھرتے ہیں۔جلسہ سالانہ میں شمولیت سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ جماعت احمدیہ کے لئے سب سے قیمتی اور قابل قدر چیز اللہ کی مخلوق اور اس کی بھلائی ہے۔یہ بات یہاں آنے والے مختلف ممالک کے نمائندگان سے بات چیت کرنے سے معلوم ہوئی ہے۔جماعت احمد یہ دنیا بھر میں ضرورتمندوں اور محتاجوں کی خدمت کے لئے سکولز ، ہسپتال ، لائبریریاں تعمیر کرتی ہے اور یہ بڑی ضروری چیز ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ حسن خلق میں جماعت احمدیہ کا ایک امتیازی نشان ہے، جلسہ سالانہ میں مختلف ممالک سے شامل ہونے والے مذہبی و غیر مذہبی لوگ عام ٹورسٹس نہیں ہیں۔بلکہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی تعلیمات کی حقیقت سمجھنے والے اور ان پر عمل کرنے والے ہیں۔ہمیں اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ جلسے میں شامل ہونے والے ہزاروں مہمانوں کی مہمان نوازی اور ان کی دیکھ بھال ایک بہت مشکل کام ہے۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ بدلے کے طور پر آپ سب اور آپ کے اہل و عیال صرف اور صرف خدا کی رضا اور اس کے فضل کے امیدوار ہیں۔پس یہی ہے جو ہمارے کارکنان کا طرہ امتیاز ہے اور اس کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ہم مہمان نوازی اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جائے۔پھر قازقستان ہی کی ایک عورت نے اپنے جذبات کا اس طرح اظہار کیا کہ: ”اپنے ساتھ سب کے حسن سلوک کو ہم نے ایسے محسوس کیا کہ جیسے ہم وہ مہمان ہوں جن کا دیر سے انتظار تھا اور ہمارے سب کاموں کا بہت خیال رکھا گیا۔ہم دل کی گہرائیوں سے عالمگیر جماعت احمدیہ کے حق میں اس امر کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ترقی پر ترقی دیتا چلا جائے اور جماعت کی سچی تعلیمات کا نور دنیا کے ہر ملک ،شہر اور انسانی روح کومنور کر دے۔“