خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 20
20 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 9 جنوری 2009 انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان لیا۔اب اس فضل کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بناتے ہوئے اور عبادات کے ساتھ اپنے ایمان میں ترقی کی بھی انتہائی ضرورت ہے۔اس طرح بچوں کو بھی زیادہ سے زیادہ کوشش کر کے کسی نہ کسی چندے کی تحریک میں ضرور شامل کرنا چاہئے اور اس کے لئے میں نے گزشتہ سال کہا تھا کہ وقف جدید میں بچوں کو زیادہ شامل کریں۔اللہ تعالیٰ جماعتوں کو بھی اور والدین کو بھی اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ کوشش اور تعاون کی توفیق عطا فرمائے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے باوجود مشکل حالات کے جماعت کا قدم ترقی کی طرف ہی ہے۔اگر ایک جماعت نے کچھ ستی دکھائی ہے تو دوسری جماعت نے اس کی کمی کو پورا کر دیا۔لیکن اگر جماعتیں مزید توجہ کریں تو جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اس میں خاص طور پر شاملین کی تعداد کے لحاظ سے مزید گنجائش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کیا جائے۔چاہے وہ معمولی رقم دیں کیونکہ اس سے ہم ایمان میں ترقی کے مقصد کو حاصل کرتے ہیں۔اب میں وقف جدید کے حوالے سے کچھ اعداد وشمار پیش کروں گا۔گزشتہ سال جو گزرگیا وہ 51 واں سال تھا اور اب 52 واں سال شروع ہو گیا۔اس میں تمام دنیا کی جماعتوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجموعی طور پر 31 لاکھ 75 ہزار پاؤنڈ کی قربانی پیش کی ہے جو کہ گزشتہ سال کی وصولی سے ساڑھے سات لاکھ پاؤنڈ زیادہ ہے۔الحمدللہ اور ہمیشہ کی طرح دنیا بھر کی جماعتوں میں پاکستان اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلی پوزیشن پر ہے۔وقف جدید کے چندہ دہندگان میں پاکستان نے اس سال 10 ہزار نئے چندہ دینے والوں کا اضافہ کیا ہے۔پاکستان کی اکثریت غریب ہے۔اور ان پر بھی وہی مثال صادق آتی ہے جس کا ایک حدیث میں ذکر آتا ہے۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ گیا۔پوچھا کس طرح؟ فرمایا کہ ایک شخص کے پاس دو درہم تھے اس نے ایک درہم چندہ دے دیا جب تحریک کی گئی اور دوسرے کے پاس لاکھوں درہم تھے اس نے اس میں سے ایک لاکھ در ہم دیا گو کہ اس نے زیادہ رقم دی لیکن قربانی کے لحاظ سے وہ ایک درہم بڑھ گیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 مندا بو ہریرۃ صفحہ 396 حدیث نمبر 8916 عالم الكتب بیروت 1998ء) اسی طرح پاکستان میں اکثریت غریب لوگوں کی ہے۔اسی طرح افریقہ کے بعض ممالک ہیں تو بہت سارے ایسے ہیں جن کے پاس معمولی رقم ہوتی ہے اس میں سے چندہ دے کر قربانی کر رہے ہوتے ہیں۔حیرت ہوتی ہے کہ وہ کس طرح چندہ دیتے ہیں اور کس طرح پھر گزارا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بہترین اجر عطا فرمائے۔امریکہ دوسرے نمبر پر ہے۔انہوں نے گو تعداد میں 256 کا اضافہ کیا ہے لیکن ان کی وصولی گزشتہ سال سے