خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 198 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 198

198 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمود ه 24 اپریل 2009 ہے کہ میں صبح سائیکل پر دفتر میں گیا تو گیٹ بند تھا۔چوکیدار نے کہا کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا فلاں صاحب نے مجھے کہا ہے اس لئے میں ان کو ملنے کے لئے آیا ہوں اور بڑے رعب سے اور فخر سے چوکیدار سے بات کی۔اس نے کہا گیٹ کھول دو تو چوکیدار نے بتایا کہ ان صاحب کو تو صبح دفتر آنے سے پہلے ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ فوت ہو چکے ہیں۔یہ جو خدا کے علاوہ دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ ان کے یہ زعم توڑ دیتا ہے۔تو وہ کہتا ہے کہ میں سخت مایوس ہو کے واپس آیا۔پس جب بھی انسانوں کو خدا بنایا جاتا ہے تو یہ حال ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر حقیقت میں میری طرف رجوع کرو تو میں ہی ہوں جو تمہیں نفع پہنچانے والا ہوں۔تمہارے فائدے کے کام کرنے والا ہوں۔تمہیں ہر چیز میسر کروانے والا ہوں۔ہر چیز دینے والا ہوں۔ایک جگہ مزید کھول کر فرمایا کہ یہ دنیا تو عارضی ہے تمہیں ہمیشہ اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہئے۔آخرت کی زندگی کی پرواہ کرنی چاہئے کیونکہ تمام نفع اور نقصان آخرت میں ظاہر ہو کر سامنے آنے والا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (الشعراء: 89-90) کہ جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے مگر وہی ( فائدہ میں رہے گا ) جو اللہ تعالیٰ کے حضور ( قلب سلیم)، اطاعت شعار دل کے ساتھ حاضر ہوگا۔پس فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں اور جو اس نے نیکیاں بتائی ہیں، ان پر عمل نہیں تو مال اور اولاد پر خوش نہ ہو یہ کسی کام نہیں آئیں گے۔خدا تعالیٰ یہ نہیں پوچھے گا کہ کتنا مال چھوڑا کر آئے ہو؟ نہ ہی یہ پوچھے گا کہ کتنی اولا د چھوڑی ہے۔کام آئیں گی تو اپنی نیکیاں اور جیسا کہ حدیث میں بھی بیان ہوا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک درخت کی شاخ راستے سے ہٹانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا۔ہاں اگر اولا د کام آ سکتی ہے تو وہ اولاد جو نیکیوں پر قائم ہو۔جوان نیکیوں کو جاری رکھنے والی ہو جو ماں باپ نے کی تھیں ان بچوں کی جو نیکیاں ہیں وہ آخرت میں والدین کولمحہ بہ لحہ نفع دیتی رہتی ہیں۔ان کو فائدہ پہنچاتی رہتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک اطاعت شعار دل لے کر حاضر ہو گے تو یہی تمہارا اصل منافع ہے۔وہ دل لے کر حاضر ہو گے جو دنیا میں تمام زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دیتا رہا تو یہی انسان کی پیدائش کا حقیقی مقصد ہے۔ایسا دل لے کر جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو گے۔اگر ایسا دل لے کر جاؤ گے جو حقوق العباد ادا کرتا رہا تو تبھی اس نافع ذات کی صفت نافع سے فیض پاؤ گے۔لغت کے مطابق قلب سلیم وہ دل ہے جو مکمل طور پر غیر اللہ کی ہر قسم کی ملونی سے پاک ہو۔پھر اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایمان کی کمزوری سے بالکل پاک ہو۔پھر ہر قسم کے دھوکے سے پاک ہو۔کسی کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے بھی پاک ہو۔اخلاقی بے راہ روی سے بھی پاک ہو، یہ قلب سلیم ہے۔اور بعض کے نزدیک قلب سلیم