خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 197

197 خطبہ جمعہ فرمود ه 24 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم جیسا کہ احادیث میں بھی دوسروں کو نفع پہنچانے کے لئے صدقہ کا حکم ہے اس پر اسی وقت عمل ہو سکتا ہے جب قربانی اور ایثار کی روح بھی انسان کے اندر ہو اور وہ حقیقی رنگ میں اس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ملے سے محبت ہو اور اسی کے حصول کے لئے یہ دعا جو میں نے اس سے پہلے پڑھی ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے راہنمائی فرمائی ہے کہ میری محبت تلاش کرو۔نفع کے لغوی معنی بیان کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا کہ النَّافِع اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور وہی ہے جو اپنی مخلوق میں سے جسے جس حد تک چاہتا ہے فائدہ اور نفع پہنچاتا ہے۔وہی ہے جو نفع اور خیر کا پیدا کرنے والا ہے۔پس انسان بھی اس وقت تک نفع حاصل کرنے والا اور نفع پہنچانے والا بن سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی مرضی بھی شامل حال ہو۔اس لئے جب آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو یہ تلقین فرمائی کہ تم نفع رساں وجود بنو تو ساتھ ہی اپنے عمل سے بھی اور نصیحت فرماتے ہوئے بھی یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ہی مدد چاہتے ہوئے نافع وجود بننے کی کوشش کرو کیونکہ حقیقی ذات، نافع ذات جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس کا رنگ اس کے بندے اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق اپنے پر چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہی اصول بیان فرمایا ہے اور واضح فرمایا ہے کہ حقیقی مومن کو حقیقی نفع میری ذات سے ہی مل سکتا ہے۔اس لئے میرے آگے جھکو اور ہرلمحہ مجھے یا درکھو اور مجھے پکارو۔قرآن کریم میں متعد دجگہ پر یہ مضمون بیان ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَالَ اَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا (الانبیاء :67) اس نے کہا کیا تم اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں ذرا بھر فائدہ پہنچا سکتا ہے وَلَا يَضُرُّكُمُ (الانبیاء :67) او نہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے؟ پس اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی فائدہ دینے والی ہے۔بعض شرک تو ظاہری ہوتے ہیں لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ، شرک کرتے ہیں۔جو مشرکین تھے وہ اُس زمانے میں بھی کیا کرتے تھے۔آج کل بھی بتوں کی پوجا کرنے والے ہیں جو خود انہوں نے ہاتھوں سے بنائے ہوئے ہیں، جو نہ ہی کسی قسم کا نفع دے سکتے ہیں ، نہ کسی قسم کا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اور یہ شرک جو ظاہری شرک ہے، یہ ہر ایک کو نظر آ رہا ہوتا ہے۔بعض مخفی شرک بھی ہوتے ہیں۔کسی مشکل وقت میں دنیا وی وسائل کی طرف نظر رکھنا۔دنیاوی اسباب کو ضرورت سے زیادہ توجہ دینا اور تلاش کرنا۔افسروں کی بے جا خوشامد کرنا حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہو تو دنیاوی اسباب جو ہیں یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ایک شخص نے کسی کا واقعہ بیان کیا کہ اس کو ملازمت نہیں مل رہی تھی۔آخر ایک دن اس کے کسی عزیز رشتہ دار کو پستہ لگا کہ ملازمت کی تلاش میں ہے۔تعلیم مکمل کر لی ہے۔بڑا پڑھا لکھا ہے تو اس نے کہا ٹھیک ہے میرا ایک بہت بڑا افسر دوست واقف ہے۔تم صبح میرے پاس آ جانا اس کے گھر چلیں گے۔خیر اس کو ملنے گئے۔اس نے کہا ٹھیک ہے کل تم صبح میرے دفتر آ جانا، تو میں تمہارا کام کر دوں گا۔ایک جگہ خالی ہے وہاں تمہیں نوکری مل جائے گی۔وہ کہتا