خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 146

146 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم سے جو مخالفت شروع ہوئی، اس میں مولویوں نے اپنے طور پر بھی نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں اور غیروں کو بھی جماعت کے خلاف بھڑ کایا اور ابھارا اور ان کی مدد کی کہ کسی طرح جماعت ختم ہو جائے یا اسے نقصان پہنچایا جائے۔لیکن ان کی ہر کوشش کے بعد جماعت کے قدم ترقی کی طرف پہلے سے آگے ہی بڑھے ہیں۔لیکن یہ سب دیکھ کر بھی ان کو احساس نہیں ہوا کہ یہ چیز ثابت کرتی ہے کہ جماعت کسی انسان کی قائم کردہ نہیں بلکہ خدا کی قائم کردہ جماعت ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا کہ ایک پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم الشان خوشخبری کے پورا ہونے کا کھلا کھلا نشان ہے۔اس لئے ان کو میں کہتا ہوں کہ عقل سے کام لیں اور خدا تعالیٰ سے مقابلے سے باز رہیں اور اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے تو بہ اور استغفار کریں اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے مددگار بن جائیں۔لیکن ان لوگوں کی آنکھوں اور عقل دونوں پر پردہ پڑا ہوا ہے، پٹیاں بندھی ہوئی ہیں جو ان سے خدا کے نام پر اور اسلام کے نام پر خدا کے بندے پر ظلم کروارہی ہیں۔لیکن بھول جاتے ہیں کہ جب ظلم و زیادتی انتہاء پر پہنچتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے بندے مَتی نَصْرُ الله (البقرة: 215 کی صدا بلند کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کب آئے گی؟ تو پھر اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ اِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيبٌ ( البقرة: 215) یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد قریب ہے۔پس یہ ظلم جو احمد یوں پر روار کھے جارہے ہیں، احمدیوں کو ہر جگہ خدا تعالیٰ کا قرب دلا رہے ہیں۔برصغیر کی تقسیم کے بعد ان شرپسند نام نہاد علماء کی اکثریت پاکستان میں آگئی تھی اور یہاں جیسا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف بھی اور عموماً بھی ہم ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ سنتے ہیں انہوں نے ملک میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا ہے۔احمدیوں کے خلاف جو سلوک کر رہے ہیں وہ تو ہے ہی، ملک کی بدنامی کا بھی باعث بنتے چلے جارہے ہیں۔یہ لوگ جو آج ملک کے ہمدرد بنے ہوئے ہیں اور احمدیوں کو یہ کہتے ہیں کہ تمہارے پاس اب صرف یہ آپشنز (Options) ہیں۔یہ راستے ہیں کہ یا تو احمدیت چھوڑ دو یا ملک چھوڑ دویا پھر اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اور ظلم کی انتہاء یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر اور رحمتہ للعالمین کے نام پر کیا جا رہا ہے۔اور کہا یہ جاتا ہے کہ ہم سب کچھ آنحضرت ﷺ کے افضل الرسل اور خاتم الانبیاء ہونے کے مقام کو قائم رکھنے کے لئے کر رہے ہیں۔ہم یہ سب کچھ دینی غیرت سے کر رہے ہیں۔اور جو ملک بقول ان کے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہو وہاں ان کے نزدیک سب سے زیادہ دینی غیرت دکھانے کی ضرورت ہے اور دینی غیرت یہی ہے کہ خدا کے نام پر خدا کے بندوں کو قتل کرو۔پہلی بات تو یہ کہ آنحضرت ﷺ کے لئے دینی غیرت جو تمام دنیا میں احمدی دکھا رہے ہیں، یہ لوگ تو ان کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے۔اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کے لئے جو قربانیاں احمدی کر رہے ہیں اس کا لاکھواں اور کروڑواں حصہ بھی یہ لوگ نہیں کر رہے۔باوجود اس کے کئی مسلمان ممالک جو تیل کی دولت رکھنے والے ہیں وہ ان ملاؤں کی مدد کر رہے ہیں۔لیکن یہ اس مدد کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے تو استعمال کر رہے ہیں ، اپنے خزانے تو