خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 147
147 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اس سے بھر رہے ہیں یا دہشت گردی اور ظلم و بربریت کے لئے تو وہ دولت استعمال کر رہے ہیں لیکن اسلام کی تبلیغ کے لئے ان کی کوشش کچھ بھی نہیں ہے۔یہ مولوی جو آج پاکستان پر بھی سب سے زیادہ حق جتانے والے بنے ہوئے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اسلام کے اس قلعہ میں ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ قادیانی اپنے عقیدے کے ساتھ رہ سکیں ان پر واضح ہو کہ پاکستان بنانے میں احمدیوں نے جو کوششیں کی ہیں اور جس کو اس وقت جب یہ سب کو ششیں ہو رہی تھیں تمام شریف النفس غیروں نے بھی مانا ہے۔تم لوگ جو آج پاکستان کے سب سے بڑے ہمدرد بنے ہوئے ہو اور مالک بنے کی کوشش کر رہے ہو اس وقت تو پاکستان کے نظریہ کی بھی مخالفت کر رہے تھے۔جماعت احمدیہ نے مسلمانوں کے حقوق کے لئے کیا کوششیں کیں اس بارے میں ان کے اپنوں کے بعض بیان پڑھ دیتا ہوں کیونکہ 23 مارچ کا دن یوم پاکستان کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔تو اس حوالے سے اتفاق سے یہ چیز بھی آج سامنے آ گئی۔تا کہ شریف النفس لیکن علم نہ رکھنے والوں کو پتہ چلے کہ کیا ہے؟ کیونکہ یہ لوگ مولویوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور اس وجہ سے پاکستان کی تاریخ کو بھی نہیں جانتے۔ایک ممتاز ادبی اور صحافی شخصیت مولانا محمد علی جو ہر صاحب تھے۔اپنے اخبار ہمدرد 26 ستمبر 1927ء میں انہوں نے لکھا کہ : " ناشکری ہوگی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کی اس منظم جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر توجہات بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی ہیں۔اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منظم فرقے کا طرز عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور ان اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمت اسلام کے بلند بانگ و در باطن پیج دعاوی کے خوگر ہیں مشعل راہ ثابت ہوگا۔( اخبار ہمدرد مورخہ 26 ستمبر 1927ء بحوالہ تعمیر وترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مثالی کردار صفحه 7 از پروفیسر محمدنصر اللہ راجا ) یعنی جو اعلان وہ کرتے پھرتے ہیں ظاہر میں تو بڑے بلند بانگ دعوے ہیں لیکن اصل میں بالکل معمولی بیچ چیزیں ہیں۔ان لوگوں کے لئے مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کی جماعت ایک مشعل راہ ثابت ہوگی۔پھر انقلاب اخبار کے مولانا عبدالمجید سالک صاحب ،مسلمانوں کے بہت مشہور لیڈ ررہے ہیں۔لکھتے ہیں کہ: جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اس تبصرے کے ذریعہ سے ( جو ایک تبصرہ اس وقت مسلمانوں کی حالت پہ تھا اس تبصرے کے ذریعہ سے ) مسلمانوں کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے جو بڑی بڑی اسلامی جماعتوں کا کام تھا وہ مرزا صاحب نے انجام دیا۔(انقلاب 16 نومبر 1930ء بحوالہ تعمیر وترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مثالی کردار صفحه 7 از پروفیسر محد نصر اللہ راجا ) پھر ہر ایک جانتا ہے کہ پاکستان بنانے کے لئے قائد اعظم کا ہی اصل میں ہاتھ ہے ان پر ایک وقت ایسا آیا کہ