خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 79

79 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم یہ بشارتیں کیا ہیں ایک دو مثالیں میں پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ يَهْدِ قلبه ( التغابن : 12) اور جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت کے راستوں کی طرف پھیر دیتا ہے، ان پر چلاتا ہے۔پھر فرمایا وَانْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ( النور : 54) کہ اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پاؤ جاؤ گے۔یہاں اس آیت میں جو مضمون چل رہا ہے، اس سے مراد پہلے آنحضرت ﷺ کی اطاعت ہے۔آنحضرت ہ کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے۔اور ہدایت کیا ہے؟ جیسا کہ شروع میں میں نے بتایا کہ ترقی کی منزلوں پر آگے قدم بڑھانا۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا اور محبت کو آنحضرت ﷺ کی پیروی اور اطاعت سے مشروط کیا ہے۔اس کا بھی قرآن کریم میں ذکر ہے۔پس اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا ایمان میں مضبوطی ، ہدایت میں آگے بڑھتے چلے جانے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول کرتے ہوئے اپنے بندے کو بے شمار انعامات سے نوازتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صراط مستقیم کی قسمیں اور ان پر ہدایت پانے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: در حقیقی نیکی پر قدم مارنا صراط مستقیم ہے“۔(صراط مستقیم کیا ہے؟ صحیح اور حقیقی نیکی پر چلنا ) اور اسی کا نام توسط اور اعتدال ہے۔( یعنی میانہ روی اور اعتدال ہے کیونکہ تو حید فعلی جو مقصود بالذات ہے وہ اس سے حاصل ہوتی ہے۔اللہ تعالی کی حقیقی تو حید جو انسان کا ایک مقصد ہے اسی سے ثابت ہوتی ہے کہ اعتدال پر انسان رہے اور وہ کس طرح؟) فرمایا اور جو شخص اس نیکی کے حاصل کرنے میں متساہل رہے وہ درجہ تفریط میں ہے اور جو شخص اس سے آگے بڑھے وہ افراط میں پڑتا ہے۔(وہ جو نیکی حاصل کرنے میں سنتی دکھاتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں ان میں کمی کر رہا ہے اور جو زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات میں پڑنے کی زیادتی کر رہا ہوتا ہے۔مثلاً بعض مسائل ہیں۔مختلف قسم کے مسائل پر آدمی بحث کر رہا ہوتا ہے یا نیکی کا اظہار ہے، نیکی کرنا بڑی اچھی بات ہے۔نیکی کو پھیلانا بڑی اچھی بات ہے لیکن بعض مسائل ایسے ہیں یا حکمت ایسی ہوتی ہے جس کی وجہ سے جماعتی نظام کی طرف سے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس میں گو مداہنت اختیار نہیں کرنی ، کمزوری نہیں دکھائی لیکن بہتری یہی ہے کہ بعض حالات میں خاموش رہا جائے اور امام کی طرف سے ، خلیفہ وقت کی طرف سے یہ ہدایت ہوتی ہے کہ یہاں ذرا خاموشی اختیار کی جائے۔لیکن بعض لوگ جوش میں آ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ضرورت سے زیادہ جوش دکھاتے ہیں اور پھر اُس ماحول میں، اُس معاشرے میں باقی جماعت کے افراد کے لئے مشکل کا باعث بن جاتے ہیں۔اسی لئے حدیث میں بھی آیا ہے کہ الْاِمَامُ جُنَّةٌ- امام جو ہے وہ ڈھال ہے۔اس کے پیچھے رہ کر اس کے فیصلوں کے مطابق چلنے کی کوشش کرو۔اگر زیادہ جوش دکھاؤ گے، زیادہ آگے بڑھو گے ، اپنی مرضی کرو گے ، گو کہ یہ