خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 78
78 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم یہ دعا ضروری نہیں کہ جب نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھ رہے ہو تو صرف ایک دفعہ پڑھ لی بلکہ بار بار اس کو دو ہراؤ تا کہ دماغ میں بار بار اس کے معانی آئیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف مزید جھکنے کی طرف توجہ پیدا ہو۔اس دعا کی قبولیت کے لئے شدت دل سے ایک آہ نکل رہی ہو۔فرماتے ہیں کہ دعا سے ہی نبیوں نے خدائے رحمان کی محبت حاصل کی اور اپنے آخری وقت تک ایک لحظہ کے لئے بھی دعا کو نہ چھوڑا اور کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اس دعا سے لا پرواہ ہو یا اس مقصد سے منہ پھیر لے۔وہ نبی ہو یا رسولوں میں سے کیونکہ رشد اور ہدایت کے مراتب کبھی ختم نہیں ہوتے۔(انبیاء کے لئے بھی یہ نہیں کہ ایک مرتبہ پر پہنچ گئے تو منزل پر پہنچ گئے اور منزل حاصل کر لی۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کی استعداد میں پیدا کی ہیں ان کے لحاظ سے ان کے لئے بھی آگے رستے کھلے ہیں)۔فرمایا ” رشد اور ہدایت کے مراتب کبھی ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ بے انتہا ہیں اور عقل و دانش کی نگاہیں ان تک نہیں پہنچ سکتیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی اور اسے نماز کا مدار ٹھہرایا۔( یہ ایک محور ہے۔نماز کا ایک بنیادی نکتہ ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا خاص طور پر کرو۔تالوگ اس کی ہدایت سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے ذریعہ تو حید کو مکمل کریں اور ( خدا تعالیٰ کے ) وعدوں کو یاد رکھیں اور مشرکوں کے شرک سے نجات پاویں۔اس دعا کے کمالات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں کے تمام مراتب پر حاوی ہے“۔( ایک تو رشد اور ہدایت کے یہ مرتے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ہر منزل پر پہنچ کر نئی منزلیں ملتی جاتی ہیں۔دوسرے ہر طبقے کے جو لوگ ہیں وہ اس دعا سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں اور اٹھا سکتے ہیں۔کمزور ایمان بھی ایمان میں ترقی کرنے کے لئے اس سے فائدہ اٹھائے گا بلکہ دہریہ اور لامذہب بھی اس سے فائدہ اٹھائے گا تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔اگر نیک نیتی سے دعا مانگی جائے تو ہر ایک کے مرتبہ کے لحاظ سے یہ دعا اس کو اگلی منزلوں کی طرف لے جاتی ہے اور ہرفرد پر بھی حاوی ہے۔وہ ایک غیر محدود دعا ہے جس کی کوئی حد بندی یا انتہا نہیں اور نہ اس کی کوئی غایت یا کنارا ہے ( کوئی اس کی منزل نہیں اس کا کوئی کنارا نہیں ) پس مبارک ہیں وہ لوگ جو خدا کے عارف بندوں کی طرح اس دعا پر مداومت اختیار کرتے ہیں زخمی دلوں کے ساتھ جن سے خون بہتا ہے اور ایسی روحوں کے ساتھ جو زخموں پر صبر کرنے والی ہوں اور نفوس مطمئنہ کے ساتھ“۔(ایک درد کے ساتھ یہ دعائیں مانگیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ایسے درد کے ساتھ جو انتہائی درد ہو جیسے زخموں کا درد ہے اور اس پر بھی انسان صبر کر رہا ہوتا ہے اور مانگتا چلا جاتا ہے، اس کے علاج کرتا چلا جاتا ہے اور اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رکھتے ہوئے نفوس مطمئنہ کے ساتھ اپنی آخری منزل تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔وہ منزل کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا۔فرمایا کہ یہ وہ دعا ہے جو ہر خیر ، سلامتی، پختگی اور استقامت مشتمل ہے اور اس دعا میں رب العالمین کی طرف سے بڑی بشارتیں ہیں“۔(کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 136-137 - ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 233-234 حاشیہ)