خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 53

53 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم یہ اہلحدیث فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان خطابات اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے با وجو د اسلام کی تحریری خدمات سرانجام دیتے تھے۔بہر حال ان میں کچھ نہ کچھ دین تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود بھی انہیں بہت نیک اور متقی سمجھتے تھے۔تو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ تصنیف فرمائی۔اس کا حصہ اوّل آیا تو آپ نے مختلف لوگوں کو اس کی اعانت کے لئے لکھا تھا کہ کتابیں خریدیں تا کہ دوبارہ چھپ سکیں تو ان کو بھی لکھا۔پہلے تو انہوں نے اخلاقاً لکھ دیا کہ ٹھیک ہے ہم کچھ کتابیں خرید لیں گے لیکن خاموش ہو گئے۔پھر جب دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں یاد دہانی کروائی تو انہوں نے جواب دیا کہ دینی مباحثات کی کتابوں کا خرید نا یا ان میں مدددینا خلاف منشاء گورنمنٹ انگریزی ہے۔اس لئے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی کچھ امید نہ رکھیں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک الزام لگاتے ہیں کہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے اور خودان کے علماء اور بڑے مشہور عالم انگریزوں کی خوشنودی کی خاطر کتاب خرید نہیں رہے، جو اسلام کے دفاع کے لئے لکھی گئی تھی۔بہر حال حافظ حامد علی صاحب کہتے ہیں کہ جب ان کو پیکٹ بھجوایا گیا تو نہ صرف انہوں نے کتاب خریدی نہیں بلکہ وہ پیکٹ واپس کر دیا اور واپس بھی اس طرح کیا کہ جب انہوں نے وصول کیا تو اس کتاب کو پھاڑا اور وہی پیکٹ واپس کروا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب کتاب کی یہ حالت دیکھی تو آپ کا چہرہ غصہ سے متغیر ہو گیا اور سرخ ہو گیا۔یکا یک آپ کی زبان پر یہ جاری ہوا کہ اچھا تم اپنی گورنمنٹ کو خوش کر لو اور یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کی عزت چاک کر دے۔پھر آپ نے فرمایا کہ سو ہم بھی نواب صاحب کو امید گاہ نہیں بناتے بلکہ امید گاہ خداوند کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے۔خدا کرے کہ گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی ہو۔(ماخوذ از حیات طیبہ صفحہ 51) اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میر عباس علی صاحب کے نام ایک خط لکھا۔اس میں بھی آپ لکھتے ہیں کہ ابتداء میں جب یہ کتاب ( براہین احمدیہ ) چھپنی شروع ہوئی تو اسلامی ریاستوں میں توجہ اور امدد کے لئے لکھا گیا تھا بلکہ کتا بیں بھی ساتھ بھیجی گئی تھیں۔سو اس میں سے صرف نواب ابراہیم علی خان صاحب نواب مالیر کوٹلہ اور محمود خان صاحب رئیس چھتاری اور مدارالمہام جونا گڑھ نے کچھ مدد کی تھی۔دوسروں نے اول توجہ ہی نہیں کی اور اگر کسی نے کچھ وعدہ بھی کیا تو اس کا ایفاء نہیں کیا۔بلکہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھوپال سے ایک نہایت مخالفانہ خط لکھا۔آپ ان ریاستوں سے ناامیدرہیں اور اس کام کی امداد کے لئے مولیٰ کریم کو کافی سمجھیں۔أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ “۔مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ 538) تو اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا کو کس طرح قبول فرمایا کہ کچھ ہی عرصے کے بعد اس نواب صاحب کی جو انگریزوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے تھے عزت چاک ہوئی۔اسی گورنمنٹ نے نواب