خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 510 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 510

510 خطبہ جمعہ فرمودہ 30اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم بعض لوگوں کو جو صدمات پہنچتے ہیں ان کا خدا تعالیٰ سے بھی یقین اٹھ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے خلاف بول رہے ہوتے ہیں۔تو یہ نمونے جواللہ تعالیٰ بعض دفعہ دکھاتا ہے وہ اس طرف توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور اس کی حفاظت کا انتظام نہ ہو تو انسان کی زندگی چل ہی نہیں سکتی۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی حفاظت کی وجہ سے انسان کی زندگی کا جو ایک ایک لمحہ ہے اللہ تعالیٰ اس میں اپنے نیک بندوں سے خاص سلوک فرماتا ہے اور وہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کی رضا کو پیش نظر رکھتے ہیں اور صدمات اور مصائب میں جب بھی وہ ان پر آتے ہیں تو انا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُونَ کہتے ہیں اور پھر اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی جو رحمت ہے وہ انہیں سمیٹتی چلی جاتی ہے اور انہیں ہر مصیبت اور مشکل کے بدنتائج سے محفوظ رکھتی ہے۔پھر قانون قدرت کے تحت اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا اثر کیونکہ تمام مخلوق اور تمام انسانوں کو پہنچ رہا ہے جس میں خدا تعالیٰ کو ماننے والے اور نہ ماننے والے سب شامل ہیں تو اس مضمون میں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے انکاری اور کافروں کے لئے بھی سبق ہے کہ اگر شرارتوں میں بڑھتے رہے تو اللہ تعالیٰ جو تمہیں آرام مہیا کرنے والا ہے اور حفاظت کے سامان کرنے والا ہے اپنی حفاظت واپس بھی لے سکتا ہے اور ایسی صورت میں تمہاری تباہی لازمی ہے۔پھر اس آیت میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ (الرعد: 12 یعنی یقینا اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی اندرونی حالت کو نہ بدلیں۔اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوں کے متعلق اپنا رویہ نہیں بدلتا۔جو نیک لوگ ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہمیشہ فیض پاتے چلے جاتے ہیں۔جب تک ان میں نیکیاں رہیں گی، جب تک وہ خدا تعالیٰ کے احکامات کے پابند رہیں گے ، جب تک وہ حقوق اللہ کی ادائیگی کرتے رہیں گے ، جب تک وہ حقوق العباد خوش اسلوبی سے ادا کرتے رہیں گے، جب تک وہ من حیث الجماعت نیکیوں پر قائم رہیں گے تو وہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنتی چلی جائے گی۔اللہ تعالیٰ کے فضل، اس کی رحمت ، اس کے انعامات اس وقت اٹھنا شروع ہوتے ہیں جب لوگ اللہ تعالیٰ کے ولی بننے کی بجائے شیطان کو اپنا ولی بنانا شروع کر دیتے ہیں۔نیکیاں جو ہیں وہ مفقود ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ظلم بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔سفا کی جنم لینا شروع کر دیتی ہے۔حقوق غصب کئے جانے لگتے ہیں۔حکومتی کارندے رشوت اور نا انصافی میں تمام حدود پھلانگنے لگ جاتے ہیں۔ہر شخص دوسرے کے مال پر نظر رکھ رہا ہوتا ہے۔مذہب کے نام پر خون کئے جاتے ہیں۔تو اُس وقت پھر اللہ تعالیٰ اپنی امان اور حفاظت اٹھالیتا ہے۔پس اس حصہ آیت کا صرف یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بُروں کے ساتھ نیک سلوک نہیں کرتا بلکہ یہ ہے کہ نیکوں کے بارے میں خدا تعالیٰ اپنے رویہ کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود بدیوں اور برائیوں میں اپنے آپ کو مبتلا کر کے خدا تعالیٰ کے فضلوں سے اپنے آپ کو محروم نہ کر لیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔دنیا وی تاریخ تو ہمیں اس انجام کو