خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 491
491 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 2009 آنحضرت ﷺ جواللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے تھے اور جن کو کامل اور مکمل شریعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا اور سب سے زیادہ اگر کسی نبی کی پیشگوئیاں اس کی زندگی میں پوری ہوئیں تو وہ آنحضرت ﷺ کی ذات ہے۔آپ سے بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا۔قرآن کریم میں اس کا ذکر بھی آتا ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (الكوثر 3-4 ) کہ تو اپنے رب کی بہت زیادہ عبادت کر اور اس کی خاطر قربانی کے معیار قائم کر۔پس یہ حکم اُمت کے لئے بھی ہے اور یہ عبادتیں اور ہر قسم کی قربانیوں کے اعلیٰ معیار ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے سے بڑھ کر سمیٹیں گے اور ہر قسم کی قربانیوں کے معیار قائم کرنے کی آج بھی ضرورت ہے۔آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان عبادتوں اور قربانیوں کے وہ اعلیٰ معیار قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائی جو انسانی سوچ سے بھی باہر ہے۔لیکن ایک اُسوہ حسنہ آپ ہمارے لئے قائم فرما گئے اور اللہ تعالیٰ نے پھر اس معیار پر پہنچنے کے بعد اپنا وعدہ بھی پورا فرمایا۔وہی لوگ جو آنحضرت ﷺ پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ آپ کی نسل چلانے والی اولاد نہیں یعنی آپ کے ہاں لڑکے نہیں ہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ یہ جواب دے رہا ہے کہ وہ خود ابتر ہیں۔آئندہ دیکھیں کیا نظارے ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔کس طرح اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل کرتا ہے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جن لڑکوں کو وہ اپنی اولا د سمجھتے تھے ایک وقت آیا کہ وہی لڑکے اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق اپنے باپوں کی طرف منسوب ہونے کی بجائے آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے میں اپنی عزت اور افتخار سمجھتے تھے۔چنانچہ اسلام کے غالب آنے کے بعد سرداران قریش کی تمام اولاد آ نحضرت ﷺ کی آغوش میں آگئی اور وہ اس بات پر فخر کرتے تھے۔عکرمہ ابو جہل کا بیٹا تھا۔لیکن مسلمان ہوئے تو جان کی بازی آنحضرت ﷺ کے لئے اور آپ کے دین کے لئے لگا دی اور ہر وقت لگانے کے لئے تیار ہے۔ولید آنحضرت ﷺ کا بڑا دشمن تھا۔اس کے بیٹے حضرت خالد نے اسلام کے لئے وہ جو ہر دکھائے جن کی مثال نہیں ملتی۔آپ کا ایک بڑا دشمن عاصی نام کا تھا اور اس کے بیٹے حضرت عمرو بن عاص نے اسلام کی کئی شاندار خدمات سرانجام دیں اور اسلام میں بڑے پائے کے جرنیل مانے جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ ہے جو سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور اور سب تدبیر کرنے والوں سے زیادہ تدبیر کرنے والا ہے۔وہ آنحضرت ﷺ کی شان کو بلند سے بلند کرتا چلا گیا اور دشمن ناکام و نامراد ہوتا چلا گیا اور اس کی اولا د بھی اللہ تعالیٰ نے پھر آنحضرت ﷺ کی جھولی میں ڈال دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہی الہام ہوا تھا کہ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُ ( تذکرہ صفحہ 219۔ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اللہ نے دشمن کو کئی مواقع پر خائب و خاسر کیا اور آج تک کرتا چلا جارہا ہے۔یہ نظارے ہم نے دیکھے۔کیا یہ خدا تعالیٰ کی مضبوط تدبیر کرنے کی دلیل نہیں ہے؟ یا کیا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة