خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page v
خطبات مسرور جلد ہفتم ii فہرست خطبات 6 6 فروری بیت الفتوح لندن 62 ت 74 صفت الہادی۔نبی کی تعریف۔امام کو پہچاننے والوں کی صفات کا ذکر علماء کا اقرار کہ مسلمانوں میں دین نام کا رہ گیا ہے اور خلافت پر اُن کا زور دینا۔اللہ سے دعا کے ذریعہ رہنمائی کے طریق کا بیان۔اب کوئی مہدی ومسیح نہیں آئے گا خواہ یہ لوگ اور اُن کی نسلیں در نسلیں ناک رگڑتے رہیں، خدا مسلمانوں کو عقل دے کہ احمدیوں کو ظلم کا نشانہ نہ بنائیں۔امام الزمان کی حقیقت کا بیان۔مسیح و مہدی کے ساتھ ہی ترقیات وابستہ ہیں جو آچکا ہے۔7 13 فروری بیت الفتوح لندن 75 تا 88 صفت الہادی۔مسلمانوں کی عزت اور شان کی بحالی کا طریق یہ ہے کہ وہ نبی کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود پر ایمان لائیں۔امام کے ڈھال ہونے کی حقیقت۔مسلمانوں کے اندر پیر پرستی کا ذکر اور جماعت کو بھی اس سے بچنے کی تلقین۔اس حوالے سے دعا کی تحریک کہ دنیا بالکل آگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔20 فروری بیت الفتوح لندن 89 تا 104 حضرت مسیح موعود کو خدا کی جانب سے جری اللہ کا خطاب ملنا اور اس کا سبب۔غیر مذاہب والوں کے اسلام اور آنحضرت پر حملے اور مسلمانوں کی حالت۔پیشگوئی مصلح موعود کا پس منظر۔غیروں کے تاثرات اور حضرت مصلح موعودؓ کے واقعات وارشادات کی روشنی میں اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر۔بعض لوگوں کا بذریعہ خطوط پوچھا کہ ہم یوم مصلح موعود ہی صرف کیوں مناتے ہیں اس کا جواب۔کسی ایک ملک کی انصار اللہ کا لکھنا کہ آج کے دن ہم نے کھیلوں کا وسیع پروگرام رکھا ہے اور کچھ علمی پروگرام ہیں جس پر فرمایا انصار اللہ کا کھیل کو د سے کیا کام ہے وہ اپنے عہد پر غور کریں۔اس دن کی اہمیت کا ذکر 27 فروری بیت الفتوح لندن 105 120 صفت الہادی۔1974ء کی پاکستانی اسمبلی کی کارروائی کو چھپانے کی وجہ کا بیان۔آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے رفقاء کے واقعات کی روشنی میں صفت الہادی کا ذکر۔پاکستان کے برے حالات کا ذکر اور ان کے لئے بڑے در د دل سے دعا کرنے کی تحریک، پاکستانی لیڈر خود بد دیانت اور دوسرا مولویوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔10 6 مارچ بیت الفتوح لندن 121 127 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں جماعت احمدیہ کے قیام کی اغراض و مقاصد اور احمدیوں کی ذمہ داریوں کا تذکرہ۔پاکستان و ہندوستان میں غیر احمدیوں کا نو مبائعین کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک۔پاکستانی حالات کا ذکر کسی بڑے منصوبے پر خدا اُن کا مکر اُن پر الٹا دیتا ہے۔مظلوم احمدیوں کو صبر اور خدا کے آگے مزید جھکنے کی نصیحت۔آج دنیا میں پاکستان کا تصور ظلم و بربریت کے طور پر ابھر رہا ہے۔آج حضرت مسیح موعود کی کشتی اس ملک کو بچاسکتی ہے۔اصلاح کی کوشش تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب ضد نہ ہو۔جماعت کی ترقی پر حسد بھی یونہی بڑھے گا۔