خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 434 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 434

434 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 دلائل کا دعوی کر کے لکھے جو قرآن کریم میں نہیں پائے جاتے۔یا ان صداقتوں اور پاک تعلیموں پر دلائل لکھے جن کی نسبت اس کا خیال ہو کہ وہ قرآن کریم میں نہیں ہیں۔تو ہم ایسے شخص کو واضح طور پر دکھلا دیں گے کہ قرآن شریف کا دعوى فِيهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ (البیہ : 4) کیسا سچا اور صاف ہے اور یا اصل و فطرتی مذہب کی بابت دلائل لکھنا چاہے تو ہم ہر پہلو سے قرآن کریم کا اعجاز ثابت کر کے دکھلا دیں گے اور بتلا دیں گے کہ تمام صداقتیں اور پاک تعلیمیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔الغرض قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہر ایک قسم کے معارف اور اسرار موجود ہیں لیکن ان کے حاصل کرنے کے لئے میں پھر کہتا ہوں کہ اسی قوت قدسیہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ: 80 )۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 52-51 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ وہ جامع کتاب ہے اور ہدایت کا ذخیرہ ہے جس کو پڑھنے والا اور عمل کرنے والا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ ہدایت کے راستوں پر گامزن رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ چیلنج دیا تھا یہ آج تک قائم ہے۔بلکہ آپ کے مریدوں نے بھی اس پر عمل کر کے دنیا کو ثابت کیا کہ قرآن کریم کی صداقت ہر زمانے کے لئے ہے۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے جو نظریہ پیش کیا تھا وہ بھی خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور قرآن کریم کی صداقت کو ہی ثابت کرتا ہے۔پس آج بھی جو احمدی سائنٹسٹ، ریسرچ کرنے والے ہیں اس صداقت کو سامنے رکھتے ہوئے غور کریں تو خدا تعالیٰ انشاء اللہ خود ان کی راہنمائی فرمائے گا۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ ہدایت پانے کے بارے میں فرماتا ہے۔اس میں قرآنی تعلیم کے مطابق روحانی ہدایت بھی ہے اور آئندہ آنے والے علوم کی طرف راہنمائی کی ہدایت بھی ہے۔فرمایا وَانْ اتْلُـوَ الْقُرْآنَ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِه (النمل: 93) اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کرو۔پس جس نے ہدایت پائی تو وہ اپنی ہی خاطر ہدایت پاتا ہے۔پھر تلاوت کرنے سے قرآن کریم میں ہدایات نظر آئیں گی۔لیکن ہر قسم کی ہدایت وہی پاسکتے ہیں جن کے متعلق یہ فیصلہ آچکا ہے کہ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کہ جب تک پاک صاف نہیں ہوں گے۔اس کے بغیر سمجھ نہیں آئے گی۔قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے بھی پاک ہونا شرط ہے۔پھر قرآن کریم کا ایک دعوئی یہ ہے کہ اس میں سب کچھ موجود ہے۔بنیادی اخلاق ہیں اور اس اخلاقی تعلیم سے لے کر اعلی ترین علوم تک اس کتاب مکنون میں ہر بات چھپی ہوئی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ یونس میں فرماتا ہے کہ وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُوا مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَّلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ۔وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا