خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 25
25 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم یہاں بھی گو محدود پیمانے پر بعض لوگ بعض اشخاص کے کام آ جاتے ہیں لیکن اصل خدا تعالیٰ کی ذات ہے جس کی طرف جانے سے اچھائیوں کا اور برائیوں کا پتہ لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی نشاندہی فرما دی کہ کون کون سی نیکیاں ہیں اور کون کون سی برائیاں ہیں۔پھر ایک معنی لکھے ہیں کہ کفی من کا مطلب ہے کسی چیز کو کسی سے دور کر کے اسے بچانا اور محفوظ رکھنا جب یہ کہیں کہ کفی وَ شَرِّ اس کا مطلب ہے اس نے برائی کو اس سے دور کیا جس سے پھر یہ مطلب نکلا کہ اس کا دفاع کیا اور اسے آزاد کروایا۔اس لغت کے مطابق یہ خدا اور انسان دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔لسان العرب میں ایک حدیث کے حوالے سے اس کے معنی بیان کئے گئے ہیں۔حدیث بیان کی ہے کہ من قَرَأَ الْأَيتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ أَى أَغْنَتَاهُ عَنْ قِيَامِ اللِيْل - (لسان العرب زیر ماده کفی ) جس نے رات کے وقت سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھیں تو وہ اس کے لئے کافی ہوں گی یعنی وہ دونوں آیات رات کے قیام سے اسے مستغنی کر دیں گی۔بعض نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ یہ دو آیات سب سے کم تعداد ہے جو رات کو قیام کے وقت قراءت کے لئے کافی ہیں۔اسی طرح بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ یہ دونوں آیات شرکے مقابلے پر کافی ہیں اور مکروہات سے بچاتی ہیں۔اگر ان پر غور کیا جائے اور ان آیات کے معانی ہر ایک پر واضح ہوں تو ان آیات میں بہت ساری باتیں آجاتی ہیں۔اس میں دعا ئیں بھی ہیں اور شر سے بچنے کے راستے بھی بتائے گئے ہیں اور ایمان میں پختگی کے راستے بھی بتائے گئے ہیں۔اس حدیث کے حوالے سے بعض سوال اٹھ سکتے ہیں کیونکہ اس سے بعض دفعہ یہی معنی ظاہر ہوتے ہیں کہ پڑھ لیا تو کافی ہو گیا اس لئے اس وقت میں ان آیات کے حوالے سے کچھ وضاحت کروں گا۔سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات میں سے پہلی آیت یہ ہے آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ۔وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (البقره: 286) - اور آخری آیت یہ ہے کہ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَانَا۔رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَالَا طَاقَةَ لَنَابِهِ۔وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلنَا فَانُصُرُنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (البقره: 287 )۔ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی اس رسول پر اس کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا۔اس پر وہ خود بھی