خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 392
خطبات مسرور جلد هفتم 392 خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 ہے ان کے لئے تو بہت بڑی بات تھی۔پھر ایک دوسرے کے لئے قربانی کا جذبہ تو ان کے لئے بالکل ہی انوکھی بات تھی۔پس یہ بھی ایک خاموش تبلیغ ہے جو جلسہ میں شامل ہونے والا ہر شخص کرتا ہے۔اس لئے ہمیشہ اس خصوصیت کو بھی قائم رکھیں اور یا درکھیں۔بعض دفعہ جہاں بڑی بڑی دلیلیں کام نہیں کرتیں عملی نمونے جو ہیں اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔بلغاریہ سے نوے (90) افراد کا وفد با وجود اس کے کہ وہاں جماعت کی مخالفت ہے اور جو سرکاری مفتی ہے جماعت کا بڑا سخت مخالف ہے اور اس مفتی کی وجہ سے ہماری جماعت پر بڑی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں۔اس کے با وجود اتنے لوگ شامل ہوئے۔اتنی تعداد میں لوگوں کا آنا جس میں سے نصف احمدی اور باقی غیر از جماعت دوست تھے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پھر لوگ ان کی پابندیوں کی وجہ سے حقیقت جاننا چاہتے ہیں۔یہ پابندیاں بھی تبلیغ کا کام کرتی ہیں۔مخالفت کی وجہ سے عیسائیوں کو بھی توجہ پیدا ہوئی ہے اور بہت سے عیسائی بھی وہاں آئے تھے۔ایک باپ بیٹی آئے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا ہم نے علیحدہ بھی ملنا ہے۔تو باپ نے پھر مجھے بتایا کہ گزشتہ سال میں یہاں آیا تھا اور اپنے بیٹے کے ساتھ آیا تھا اور میرا بیٹا وہاں پولیس میں ملازم تھا۔جلسہ پر آنے کی وجہ سے واپس جاتے ہی اس کے خلاف چارج شیٹ لگ گئی۔محکمانہ کارروائی کی گئی اور اس کو پولیس سے فارغ کر دیا گیا۔میں نے کہا مقدمہ کر کے اپنا حق لیں لیکن قانون تو وہاں بھی اس طرح قائم نہیں ہے۔انہوں نے کہا وہ بھی ملنے کی امید نہیں ہے۔اس پر صرف یہ الزام تھا کہ جرمنی میں احمدیوں کا جلسہ ہوا وہاں کیوں گئے؟ ضرور تم میں کچھ نہ کچھ بغاوت کا عنصر ہے۔جولڑ کے کا باپ تھا میں نے ان سے کہا کہ اپنے بیٹے سے کہیں کہ احتیاط کریں۔ہمارے لئے اپنے آپ کو اتنی مشکل میں نہ ڈالیں۔اس پر اس شخص نے جواب دیا کہ میرا بیٹا کہتا ہے کہ مجھے تو ان میں سچائی نظر آتی ہے اور یہ مظلوم بھی ہیں۔اس لئے میں ہمیشہ انہی کا ساتھ دوں گا۔چاہے میری نوکری جائے یا مجھے کوئی اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں، مجھے تو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں۔یہ باتیں کون ان کے دلوں میں ڈالتا ہے۔سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں کر سکتا۔احمدیت کے یہ لوگ بڑے قریب ہیں۔اللہ تعالیٰ جلد ان کا سینہ بھی کھولے۔اس دفعہ جو بیٹی ان کے ساتھ آئی تھیں پڑھی لکھی ہیں۔ہمارے بعض لٹریچر اور کتب کے اقتباسات کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ان کا جماعت کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے۔اس وقت مبلغین تو وہاں ہیں نہیں صرف ایک پاکستانی فیملی ہے اور اس فیملی نے ساری جماعت کو وہاں سنبھالا ہوا ہے۔کافی بڑی تعداد میں جماعت ہوگئی ہے۔یہ عیسائی خاتون جن کا میں نے ذکر کیا۔ان کا اس وجہ سے بھی اٹھنا بیٹھنا ہے کہ جماعت کے لٹریچر کا یہ ترجمہ کرتی ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے اُردو بھی سیکھ لی ہے۔میں جب اس خاتون کے والد سے مربی صاحب کے ذریعہ باتیں کر رہا تھا تو یہ لڑکی اپنا سر ہلاتی جاتی تھی۔مجھے خیال آیا کہ اس کو سمجھ آ رہی ہے۔میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا ہاں میں نے کافی حد تک اُردو سیکھ لی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا