خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 293

293 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمود ه 26 جون 2009 عادات میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عبادتیں بھی رسمی عبادتیں ہیں۔۔۔۔۔کیونکہ احکام الہی کا بجالانا تو ایک بیج کی طرح ہوتا ہے جس کا اثر روح اور وجود دونوں پر پڑتا ہے۔ایک شخص جو کھیت کی آب پاشی کرتا ہے اور بڑی محنت سے اس میں بیج ہوتا ہے۔اگر ایک دو ماہ تک اس میں انگوری نہ نکلے (یعنی اس کی سبزی نہ نکلے تو ماننا پڑتا ہے کہ بیج خراب ہے۔یہی حال عبادات کا ہے۔اگر ایک شخص خدا کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے، نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، اور بظاہر نظر احکام الہی کو حتی الوسع بجالاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی تو ماننا پڑتا ہے کہ جو بیج وہ بور ہا ہے وہی خراب ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 387-386 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ معیار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقرر فرمایا ہے کہ عبادتوں سے اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھے اور عبادتوں کے اثرات معاشرے کے تعلقات میں بھی نظر آئیں۔بعض لوگ صرف ذاتی مقاصد کے لئے دعائیں کر کے کہتے ہیں کہ بہت دعائیں کیں، قبول نہیں ہوئیں۔انہوں نے اپنی ذاتی دعاؤں کی قبولیت ہی صرف اللہ تعالیٰ سے تعلق کا معیار بنایا ہوتا ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ نے اگر یہ فرمایا ہے کہ میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا جب دعائیں کرو۔تو یہ بھی فرمایا کہ میں جان مال، اولاد کے نقصان سے تمہیں آزماؤں گا۔پس ہماری عبادتیں اللہ تعالیٰ کا قرب پانے اور دلی اطمینان کے لئے ہونی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میری عبادت کرو۔میرا ذکر کرو۔میں تمہیں اطمینان بخشوں گا اور اگر اس میں بہتری کی طرف قدم اٹھ رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اگر معاشرے میں ہم امن وسلامتی کے لئے کوشاں ہیں تو یہ بھی عبادتوں کے نیک اثرات ہیں۔چاہے ہماری ذاتی دعائیں قبول ہوتی ہیں یا نہیں ہوتیں لیکن ایک تعلق خدا تعالیٰ سے بڑھ رہا ہوتا ہے اور یہی چیز پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت اور مخلوق کی ہمدردی دلوں میں پیدا ہو اور یہی عبادتوں کا مقصد ہے۔پس اس کے حصول کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک نمازوں کی کیا حالت ہونی چاہئے اس کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : نماز سے وہ نماز مراد نہیں جو عام لوگ رسم کے طور پر پڑھتے ہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے جس سے انسان کا دل گداز ہو جاتا ہے اور آستانہ احدیت پر گر کر ایسا محو ہو جاتا ہے کہ پگھلنے لگتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ یا درکھو یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی “۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 403-402 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )