خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 294
294 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پس یہ چند باتیں ہیں ان بے شمار نصائح کے خزانے میں سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں فرمائی ہیں تا کہ ہم اپنے دین اور دنیا کو سنوارنے والے بن سکیں۔آج جب ہم دنیا کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ پیش کرتے ہیں اور معاشرے کے سامنے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم سے پوچھو کہ کیوں مساجد نمازیوں سے بھرے ہونے کے باوجود معاشرے میں ہر طرف بدامنی اور فساد ہے تو اس کے ساتھ ہی ہماری نظر اپنے گریبان پر بھی پڑنی چاہئے۔ہمیں اپنے اندر بھی جھانکنا چاہئے۔ہمیں اپنی فکر کبھی ہونی چاہئے کہ کہیں ہم اس مقصد کو بھول نہ جائیں جو خدا تعالیٰ نے ہماری پیدائش کا بیان فرمایا ہے۔اور جس کے حصول کے لئے ہم نے اس زمانہ کے امام کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس کو نبھائیں گے۔پس جہاں میں عمومی طور پر جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں وہاں خاص طور پر کارکنان ، عہد یداران اور واقفین زندگی جو ہیں ان کو سب سے زیادہ اس کے حصول کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اگر کارکنان عہدیداران اور واقفین زندگی اس طرف ایک فکر سے توجہ کریں گے تو جہاں ہماری مسجدوں کی آبادی بڑھ رہی ہوگی وہاں جماعت کی عمومی روحانی حالت میں بھی ترقی ہوگی۔معاشرہ میں، احمدی معاشرہ میں ، خاص طور پر امن، پیارا اور حقوق کی ادائیگی کا ایک خاص رنگ پیدا ہورہا ہو گا۔عہدیداران کے نمونوں سے افراد جماعت بھی اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک سے دوسرے کو جاگ لگتی ہے اور اگر کسی کے نمونے سے دوسرے میں پاک تبدیلی پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی اتناہی ثواب دیتا ہے جتنا اس شخص کو مل رہا ہے جس نے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کی ہے۔پس اس طرف خاص طور پر توجہ دیں۔کسی کا علم کسی کا صائب الرائے ہونا، کسی کی انتظامی صلاحیت میں اعلیٰ مقام حاصل کرنا، نہ اس کو بحیثیت احمدی کوئی فائدہ دے سکتا ہے، نہ جماعت کو ایسے شخص کے علم، عقل اور دوسری صلاحیتوں سے کوئی دیر پا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا خوف اور خالص ہو کر اس کی عبادت کی طرف توجہ پیدا نہ ہو تو یہ سب چیزیں فضول ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقام کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جن کی توقعات ہم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہیں۔اب میں ایک ذکر خیر بھی کرنا چاہتا ہوں جو کہ حضرت صاحبزادی امتہ القیوم بیگم صاحبہ کا ہے۔جن کی دو تین دن پہلے وفات ہوئی ہے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹیوں میں سے دوسرے نمبر کی بیٹی تھیں اور صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی اہلیہ تھیں۔آپ حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ جو حضرت خلیفتہ مسیح الاول کی بیٹی تھیں، کے بطن سے 19 ستمبر 1916ء کو پیدا ہوئیں اور قادیان میں ہی اماں جان کے کمرے میں جو بیت الفکر اور مسجد مبارک کے قریب تھا۔آپ کی پیدائش ہوئی ، آپ نے مولوی فاضل کی تعلیم حاصل کی پھر ایف اے پاس کیا اور ان کی لجنہ کی جو خدمات ہیں دو مختلف وقتوں میں چار سال تک لجنہ واشنگٹن کی صدر رہیں۔