خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 268
خطبات مسرور جلد ہفتم 268 خطبه جمعه فرمود 120 جون 2009 حضرت میاں بشیر احمد صاحب اس کے آگے لکھتے ہیں کہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ توسیع مکان سے مراد کثرت مہمانان اور ترقی قادیان بھی ہے اور یہ بیچ ہے۔(سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحہ 131 روایت نمبر 141 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) تو یہ حالات تھے کہ مکانوں کی وسعت کے لئے رقم نہیں تھی۔صرف طاقت تھی، توفیق تھی تو چھپر ڈالنے تک کی۔یہ تو آپ کو یقین تھا کہ خدا تعالیٰ نے جب الہام کیا ہے تو سامان بھی پیدا فرمائے گا۔لیکن اپنی طاقت کے مطابق اس الہام کے بعد فوری عمل بھی ضروری تھا۔اس لئے جو موجود تھا اس سے ظاہری سامان آپ نے فوراً کر دیا۔لیکن یہ الہام کیونکہ آپ کو بار باراور مختلف جگہ پر ہوا ہے اور مختلف مواقع پر ہوا ہے اس لئے ہر مرتبہ یہ الہام ہونے پر آپ اس یقین سے بھر جاتے تھے کہ اب ایک نئی شان سے اس الہام کے پورا ہونے کے سامان ہوں گے اور اس کا اظہار آپ نے اپنے ایک اشتہار میں یوں فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: ایک عرصہ ہوا مجھے الہام ہوا تھا کہ وَسِعُ مَكَانَكَ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ یعنی اپنے مکان کو وسیع کر کہ لوگ دُور دُور کی زمین سے تیرے پاس آئیں گے۔سو پشاور سے مدراس تک تو میں نے اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھ لیا مگر اس کے بعد دوبارہ پھر یہی الہام ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ پیشگوئی پھر زیادہ قوت اور کثرت کے ساتھ پوری ہوگی۔وَاللهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاء لَا مَانِعَ لِمَا أَرَادَ ( تذکرہ صفحہ 246۔ایڈیشن چہارم 2004 مطبوعہ ربوہ ) اور پھر 1907ء میں ایک جگہ الہامات کا ذکر فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں، 1907ء کی بات ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے فرمایا: "لَكُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا - خیر و نصرت و فتح انشاء اللہ تعالیٰ۔وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔إِنِّي مَعَكَ ذَكَرْتُكَ فَاذْكُرُنِي۔وَسِعُ مَكَانَكَ۔حَانَ أَنْ تُعَانَ وَتُرْفَعَ بَيْنَ النَّاسِ إِنِّي مَعَكَ يَا إِبْرَاهِيمُ۔إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ إِنَّكَ مَعِى وَاهْلُكَ إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ فَانْتَظِرُ۔قُلْ يَأْخُذُكَ الله يعنى تمہارے لئے دنیا اور آخرت میں بشارت ہے۔تیرا انجام نیک ہے۔خیر ہے اور نصرت اور فتح انشاء اللہ تعالی۔ہم تیرا بوجھ اتار دیں گے جس نے تیری کمر توڑ دی اور تیرے ذکر کو اونچا کر دیں گے۔میں تیرے ساتھ ہوں۔میں نے تجھے یاد کیا ہے۔سو تو مجھے بھی یاد کر اور اپنے مکان کو وسیع کر دے۔وہ وقت آتا ہے کہ تو مدد دیا جاوے گا اور لوگوں میں تیرا نام عزت اور بلندی سے لیا جائے گا۔میں تیرے ساتھ ہوں اے ابراہیم ! میں تیرے ساتھ ہوں اور ایسا ہی تیرے اہل کے ساتھ۔اور تو میرے ساتھ ہے اور ایسا ہی تیرے اہل میں رحمن ہوں میری مدد کا منتظر رہ۔اور اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا۔( تذکرہ صفحہ 624 ایڈیشن چہارم 2004 مطبوعہ ربوہ )