خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 267

267 خطبه جمعه فرمود ه 12 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم وفات کے بعد لاکھوں انسانوں میں مجھے عزت کے ساتھ شہرت دی اور میں والد صاحب کے زمانے میں اپنے اقتدار اور اختیار سے کوئی مالی قدرت نہیں رکھتا تھا اور خدا تعالیٰ نے ان کے انتقال کے بعد اس سلسلہ کی تائید کے لئے اس قدر میری مدد کی اور کر رہا ہے کہ جماعت کے درویشوں اور غریبوں اور مہمانوں اور حق کے طالبوں کی خوراک کے لئے جو ہر ایک طرف سے صد ہا بندگان خدا آ رہے ہیں اور نیز تالیف کے کام کے لئے ہزار ہاروپیہ بہم پہنچایا اور ہمیشہ پہنچاتا ہے۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 198-199) پس اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اپنے اس الہام کے تحت کہ الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبُدَهُ اپنے کافی ہونے کا ثبوت دیا، اس وعدے کو پورا فرمایا بلکہ وسعُ مَكَانَكَ کا حکم فرما کر خود ہی ہر لحاظ سے اس کی وسعت کے تمام لوازمات اور انتظامات بھی پورے فرمائے اور اس الہام کو آج بھی ہم ایک نئی شان سے پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔اور یہ الہام آپ کو صرف ایک مرتبہ نہیں ہوا بلکہ کئی مرتبہ ہوا اور ہر مرتبہ جب آپ کو یہ الہام ہوا تو اس کی وسعتوں کی شان بھی بڑھتی چلی گئی اور یہی آپ نے فرمایا ہے کہ متعدد مرتبہ ہونے کا مطلب ہی یہ تھا کہ وسعتوں کی شان بڑھتی چلی جائے گی۔اس لئے آپ بھی ہر لحاظ سے اس وسعت کے لئے ظاہری طور پر کوشش کرتے چلے جائیں اور پھر معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑیں اور آپ یہی کرتے تھے۔یہ سچے وعدوں والا خدا ہے۔اپنے وعدے پورے کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب یہ الہام ہوا تو یہ دعویٰ مسیحیت سے پہلے کا واقعہ ہے، آپ کے پاس بظاہر دنیاوی لحاظ سے کچھ بھی نہیں تھا۔لیکن خدائی حکم تھا اس لئے پورا کرنا بھی آپ نے ضروری سمجھا اور آپ نے اُسے کس طرح پورا فرمایا؟ اس بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت درج فرمائی ہے۔پیش کرتا ہوں۔کہتے ہیں کہ : ”میاں عبداللہ سنوری صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور کو جب وَسِعُ مَكَانَكَ ( یعنی اپنے مکان وسیع کر ) کا الہام ہوا تو حضور نے مجھ سے فرمایا کہ مکانات بنوانے کے لئے تو ہمارے پاس روپیہ ہے نہیں۔اس حکم الہی کی اس طرح تعمیل کر دیتے ہیں کہ دو تین چھپر ( گھاس پھوس کے ) بنوا لیتے ہیں۔چنانچہ حضوڑ نے مجھے اس کام کے واسطے امرتسر، حکیم محمد شریف صاحب کے پاس بھیجا جو حضور کے پرانے دوست تھے اور جن کے پاس حضور اکثر امرتسر میں ٹھہرا کرتے تھے تا کہ میں ان کی معرفت چھپر باندھنے والے اور چھپر کا سامان لے آؤں۔چھپر باندھنے کے لئے کوئی خاص آدمی ہوتے تھے چنانچہ میں جا کر حکیم صاحب کی معرفت امرتسر سے آدمی اور چھپر کا سامان لے آیا اور حضرت صاحب نے اپنے مکان میں تین چھپر تیار کر وائے۔یہ چھپر کئی سال تک رہے پھر ٹوٹ پھوٹ گئے“۔