خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 238 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 238

خطبات مسرور جلد هفتم 238 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 2009 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دنیا یا درکھو کہ اصل صفائی وہی ہے جو فرمایا ہے قَدْ اَ فَلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس: 10) ہر شخص اپنا فرض سمجھ لے کہ وہ اپنی حالت میں تبدیلی کرئے“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 182 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور حالت میں تبدیلی کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کی ضرورت ہے اور اس کا فضل حاصل کرنے کے لئے مستقل اس کے آگے جھکے رہنے کی ضرورت ہے۔اس سے مدد مانگنے کی ضرورت ہے۔اس کا رحم مانگنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ میرا رحم ہر چیز پر حاوی ہے اور وسیع تر ہے اور پھر فرمایا میری بخشش بھی بہت وسیع ہے۔پس نیک اعمال بجالانے کی کوشش کے ساتھ جب ہم اللہ تعالیٰ کے رحم کو جذب کرنے کی کوشش کریں گے ، اس سے اس کی وسیع تر بخشش کے طالب ہوں گے، تو تبھی ہم کامیاب ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تزکیہ نفس کے حصول کے طریقہ اور جن سے حقیقی تقویٰ حاصل ہوتا ہے ان راستوں کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔لمبا اقتباس ہے لیکن ہر ایک کے لئے سننا بہت ضروری ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: اب ایک اور مشکل ہے کہ انسان موٹی موٹی بدیوں کو تو آسانی سے چھوڑ بھی دیتا ہے لیکن بعض بدیاں ایسی باریک اور مخفی ہوتی ہیں کہ اول تو انسان مشکل سے انہیں معلوم کرتا ہے اور پھر ان کا چھوڑ نا اسے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ محرقہ بھی گو سخت تپ ہے ( یعنی ٹائیفائیڈ ) مگر اس کا علاج کھلا کھلا ہوسکتا ہے۔لیکن تپ دق (ٹی بی) جو اندر ہی کھا رہا ہے اس کا علاج بہت مشکل ہے۔اسی طرح پر یہ باریک اور مخفی بدیاں ہوتی ہیں جو انسان کو فضائل کے حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔یہ اخلاقی بدیاں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ اور معاملات میں پیش آتی ہیں اور ذرا ذراسی بات اور اختلاف رائے پر دلوں میں بغض ، کینہ، حسد، ریا، تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور اپنے بھائی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔چند روز اگر نماز سنوار کر پڑھی ہے اور لوگوں نے تعریف کی تو ریا اور نمود پیدا ہو گیا اور وہ اصل غرض جو اخلاص تھی جاتی رہی اور اگر خدا تعالیٰ نے دولت دی ہے یا علم دیا ہے یا کوئی خاندانی وجاہت حاصل ہے تو اس کی وجہ سے اپنے دوسرے بھائی کو جس کو یہ باتیں نہیں ملی ہیں حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔اور اپنے بھائی کی عیب چینی کے لئے حریص ہوتا ہے اور تکبر مختلف رنگوں میں ہوتا ہے، کسی میں کسی رنگ میں اور کسی میں کسی طرح سے۔علماء علم کے رنگ میں اسے ظاہر کرتے ہیں اور علمی طور پر نکتہ چینی کر کے اپنے بھائی کو گرانا چاہتے ہیں۔غرض کسی نہ کسی طرح عیب چینی کر کے اپنے بھائی کو ذلیل کرنا اور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔رات دن اس کے عیبوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس قسم کی باریک بدیاں ہوتی ہیں جن کا دُور کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور شریعت ان باتوں کو جائز نہیں رکھتی ہے۔ان بدیوں میں عوام ہی مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ جو متعارف اور موٹی موٹی بدیاں نہیں کرتے ہیں اور