خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 222
222 خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم خدا تعالیٰ ہی ہے جو ہر ایک کی صلاحیتوں اور استعدادوں کو جانتا ہے اس لئے جو بھی اللہ تعالیٰ نے احکامات نازل فرمائے اس بارہ میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ہماری استعدادوں سے باہر ہیں۔چھپی ہوئی صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ودیعت فرمائی ہیں۔ان کو نکالنا، ابھارنا صیقل کرنا یہ ہر انسان کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے آنحضرت ﷺ کا ذکر فرما کر جب یہ فرمایا کہ یہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہیں تو اس انسان کامل کے اُسوہ حسنہ پر ہمیں چلنے کے لئے بھی تلقین فرمائی۔انسان کامل تو ایک ہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا جس کی صلاحیتوں اور استعدادوں کی وسعتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں۔آپ کی زندگی کے کسی بھی پہلو پر ہم غور کریں تو ایک عظیم معیار ہمیں نظر آتا ہے۔لیکن ہمیں حکم یہ ہے کہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ آنحضرت ﷺ کی ذات ہے اور اس پر چلنا تمہارا فرض ہے۔کوشش کر و حتی المقدور کوشش کرو کہ اس پر چل سکو۔میں نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جن باتوں میں راہنمائی فرمائی ان میں عائلی معاملات بھی ہیں۔قرآن کریم کی بعض آیات ہیں جو میں اس ضمن میں پیش کروں گا۔لیکن ان کو پیش کرنے سے پہلے آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کا ذکر کروں گا جو اس ضمن میں ہمارے سامنے ہے کہ آپ کا اپنے اہل کے ساتھ کیا سلوک تھا ؟ اور اس سلوک میں آپ نے کیسا اعلیٰ معیار قائم فرمایا۔آپ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک میں بہتر ہے اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔ترندی کتاب المناقب باب فضل ازواج النبی الله ، حدیث نمبر 3895) پھر آپ نے ہمیں نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ تمہیں اگر ایک دوسرے میں کوئی عیب نظر آتا ہے یا دوسرے کی عادت یا حرکت نا پسند ہے تو کئی باتیں ایسی بھی ہوں گی جو اچھی بھی لگتی ہوں گی۔مسلم کتاب الرضاع باب الوصیۃ بالنساء- حدیث نمبر 3645) تو ان اچھی باتوں کو سامنے رکھ کر ایثار کا پہلو اختیار کرنا چاہئے اور موافقت کی فضا پیدا کرنی چاہئے۔یہ دونوں کے لئے حکم ہے۔مرد کے لئے بھی اور عورت کے بھی اور آپ کی تمام بیویاں اس بات کی گواہ ہیں کہ آپ نے ہمیشہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا۔سفر پر جاتے تو بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے تھے جس کا نام آتا اسے ساتھ لے کر جاتے۔( بخاری کتاب المغازی باب حدیث افک حدیث نمبر 4141) بیویوں کی بیماری کی حالت میں تیمارداری فرماتے۔( بخاری کتاب المغازی باب حدیث افک حدیث نمبر 4141) ان کے جذبات کا خیال رکھتے۔لیکن اس کے باوجود یہ دعا آپ فرماتے ہیں کہ اے اللہ! تو جانتا اور دیکھتا ہے