خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 223
223 خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 خطبات مسرور جلد هفتم کہ انسانی کوشش کی حد تک جو برابری اور منصفانہ تقسیم ہوتی ہے وہ میں کرتا ہوں۔میرے مولا! دل پر تو میرا اختیار نہیں ہے اگر دل کا میلان کسی خوبی اور کسی کی صلاحیتوں اور قابلیت کی وجہ سے کسی کی طرف ہے تو مجھے معاف فرمانا۔(ابوداؤ د کتاب النکاح باب فی القسم بين النساء حدیث نمبر 2134) حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ جو تعلق تھا اس کے بارہ میں حضرت عائشہ کو یہ جواب دیا کہ خدیجہ اس وقت میری ساتھی بنی جب میں تنہا تھا۔وہ اس وقت میری مددگار بنی جب میں بے یارومددگار تھا۔اس نے اپنا مال بے دریغ مجھ پر فدا کیا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اولاد بھی دی۔انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب دنیا نے مجھے جھٹلایا۔( مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 204 مسند عائشۃ حدیث نمبر 25376 عالم الكتب بيروت 2008ء) اور آپ کی یہ قدرشناسی آپ کے وسیع تر قدر شناس دل میں ہمیشہ رہی۔باوجود اس کے کہ آپ کی زندہ اور جوان بیویاں موجود تھیں اور آپ کی محبوب بیوی موجود تھی جو اس وجہ سے محبوب تھی کہ خدا تعالیٰ کی سب سے زیادہ وحی اس کے حجرے میں ہوئی۔(ترمذی کتاب المناقب باب فضل عائشہ حدیث نمبر (3879) اس نے جب عرض کیا کہ آپ کے پاس زندہ بیویاں موجود ہیں کیونکہ ہر وقت اس بڑھیا کا ذکر کرتے رہتے ہیں تو بڑے پیار سے اسے سمجھایا کہ تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کرو۔وسعت حوصلہ پیدا کرو۔یہ یہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے میں اپنی پہلی بیوی کا ذکر کرتا ہوں اور یاد کرتا ہوں۔( مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 204 مسند عائشہ حدیث نمبر 25376 ایڈیشن 1998 مطبوعہ بیروت) آج جو مستشرقین اور آنحضرت ملے پر الزام لگانے والے بیہودہ گوئیوں کی انتہا کئے ہوئے ہیں کیا انہیں میرے آقا کا یہ اُسوہ حسنہ نظر نہیں آتا کہ کس طرح انہوں نے اپنے عائلی حقوق ادا کئے کہ زندہ بیویوں کے ساتھ بھی برابری کا سلوک ہے باوجود اس کے کہ دل پر کسی کا اختیار نہیں۔پھر بھی جو ظا ہری سلوک ہے وہ ایک جیسا رکھا اور جس بیوی نے ابتدا میں ہی سب کچھ قربان کر دیا قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ، زندہ بیویوں کو بھی بتا دیا۔کہ میں تو قدر شناس ہوں، اگر میں یہ قدرشناسی نہ کروں تو اس خدا کا شکر گزار نہیں کہلا سکوں گا جس نے مجھے کبھی تہی دامن نہیں چھوڑا اور اپنی وسیع تر نعمتوں سے مجھے حصہ دیتا چلا گیا۔آنحضرت ﷺ کا اپنی بیویوں سے حسن سلوک اس وجہ سے تھا کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرو اور جب آپ نے اپنے ماننے والوں کو فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس پر عمل کرو تو خود اس کے اعلیٰ ترین نمونے قائم فرمائے۔