خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page ii
خطبات مسرور جلد هفتم پیش لفظ پیش لفظ احمد اللہ ، خطبات مسرور کی ساتویں جلد پیش کی جارہی ہے جو حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بیان فرمودہ 2009ء کے 52 خطبات جمعہ پر مشتمل ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ خطبات بیت الفتوح ایک ڈسٹرکٹ، حدیقۃ المہدی آلٹن، لندن، مسجد نور فرینکفرٹ اور منہائم جرمنی میں ارشاد فرمائے۔یہ تمام خطبات الفضل انٹر نیشنل لندن سے لئے گئے ہیں البتہ ان کے حوالہ جات میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ہماری خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وقت کے امام کو پہچاننے کی توفیق دی اور اس کا سراسر فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں خلافت کے نظام میں شامل کیا۔ہمیں ایک خلیفہ عطا کیا جو ہمارے لئے در درکھتا ہے، ہمارے لئے اپنے دل میں پیار رکھتا ہے، اس خوش قسمتی پر جتنا بھی شکر کیا جائے کم ہے۔اس شکر کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ ہم خلیفہ وقت کی آواز کوسنیں ، اس کی ہدایات کو سنیں ، اور ان پر عمل کریں کیونکہ اس کی آواز کوسنا باعث ثواب اور اس کی باتوں پر عمل کرنا دین ودنیا کی بھلائی اور ہمارے علم وعمل میں برکت کا موجب ہے۔اس کی آواز وقت کی آواز ہوتی ہے۔یہ لوگ خدا کے بلانے پر اور زمانے کی ضرورت کے مطابق بولتے ہیں۔خدائی تقدیروں کے اشاروں کو دیکھتے ہوئے وہ رہنمائی کرتے ہیں اور الہی تائیدات و نصرت ان کے شامل حال ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں :۔" خدا تعالیٰ جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو زمانہ کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے۔اسے اپنی صفات بخشتا ہے۔“ ( الفرقان مئی جون 1967 ء صفحہ 37) حضرت _ مصلح موعود کا ایک ارشاد ان خطبات کی خیر و برکت اور اہمیت کو اور واضح کر دیتا ہے آپ نے فرمایا:۔خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں ، سب تجویزوں ، اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم یا وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک خطبات رائیگاں ، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں نا کام ہیں۔“ ( خطبہ جمعہ 24 جنوری 1936ء مندرجہ الفضل 31 جنوری 1936ء) خطبات کی اس جلد میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور اسکی ہستی کے دلائل کا ذکر ہے ، حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کی پاکیزہ سیرت اور اسلام اور احمدیت کی خوبصورت تعلیمات کا بیان ہے۔مغرب میں اسلام دشمن سرگرمیوں کی تردید ہے، عالمی طاقتوں اور مسلم ممالک کے سربراہوں اور سیاستدانوں اور دانشوروں کے لئے اقتصادی اور سیاسی رہنمائی ہے اور یہ تنبیہ بھی ہے کہ اگر عدل وانصاف اور مساوات پر بنی حکومتیں نہیں ہوں گی تو ز بر دست تباہی کے خطرات ان کے سروں پر منڈلا رہے ہیں اور بچنے کی راہ بھی کہ زمانے کے امام کی کشتی ہے اور احمدی کی دعائیں ہیں جو ان خطرات سے بچا سکتی ہیں۔خصوصاً پاکستان جو بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا اس کی بقا کے لئے دعاؤں کی تحریک اور رہنمائی کا تذکرہ، دنیا بھر میں احمدیت کی ترقی اور خدا کے فضلوں کا ذکر ، آپس میں محبت اور