خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 91

91 خطبہ جمعہ فرموده 20 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اور نہ تم لوگوں نے مجھ سے کوئی بات کرنی ہے حتی کہ کھانے وغیرہ کے لئے جب کھانا لے کر آؤ تو میرے کمرے میں رکھ دینا۔جب میں نے کھانا ہوگا کھالوں گا۔بہر حال اس چلہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے آپ پر بہت سے انکشافات فرمائے۔چنانچہ 20 فروری 1886ء کو آپ نے وہیں سے ایک اشتہار شائع فرمایا اور اسے مختلف علاقوں میں بھجوایا۔اس میں بہت ساری پیشگوئیاں تھیں جو اللہ تعالیٰ نے بڑی شان سے آپ کی زندگی میں پوری کیس اور بعد میں بھی پوری کرتا گیا۔جماعت میں 20 فروری کے حوالہ سے ہر سال ایک جلسہ منعقد کیا جاتا ہے۔اس لئے میں اس اس کی اہمیت اور کس شان سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی یعنی پیشگوئی حضرت مصلح موعود۔اس کا کچھ ذکر کروں گا۔آج بھی اتفاق سے 20 فروری ہے۔یہ جو پیشگوئی تھی یہ آپ نے اپنے ایک بیٹے کی پیدائش اور اس کی خصوصیات کے بارے میں کی تھی اور جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا ہے کہ موعود بیٹے کی پیدائش کی پیشگوئی آپ نے انہی دعاؤں کے دوران اللہ تعالیٰ سے علم پا کر کی تھی جب آپ اللہ تعالیٰ سے اسلام اور بانی اسلامیہ کی صداقت کا نشان دشمنان اسلام کا منہ بند کرنے کے لئے مانگ رہے تھے۔پس یہ پیشگوئی کوئی معمولی پیشگوئی نہیں ہے بلکہ یہ پیشگوئی بھی اور اس پیشگوئی کا مصداق بھی اس زمانے میں اسلام کی عظمت ثابت کرنے کا ایک نشان ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک تقدیر ہے کہ 1889ء میں جس سال حضرت مسیح موعود کو بیعت لینے کا اذن ہوا اسی سال میں اس پیشگوئی کا مصداق موعود بیٹا پیدا ہوا۔بہر حال اس پیشگوئی کے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔آپ نے جو اشتہار دیا اس میں فرمایا کہ: پہلی پیشگوئی جو خود اس احقر کے متعلق ہے آج 20 فروری 1886ء میں جو مطابق 15 جمادی الاوّل ہے برعایت ایجاز واختصار کلمات الہامیہ نمونہ کے طور پر لکھی جاتی ہے اور مفصل رسالہ میں درج ہوگی۔انشاء اللہ تعالی۔فرمایا ” پہلی پیشگوئی بِالهَامِ اللَّهِ تَعَالَى وَإِعْلَامِهِ عَزَّ وَجَل خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر یک چیز پر قادر ہے ( جَلَّ شَأْنُهُ وَعَزَّ اسْمُهُ ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سوئیں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپائی قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو ( جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے ) تیرے لئے مبارک کر دیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر! تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں وہ موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہوا اور تاحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام خوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا