خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 90
خطبات مسرور جلد ہفتم 90 خطبہ جمعہ فرموده 20 فروری 2009 اسلام کے پیغام کو مزید وسعت دی تو مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ آپ کے خلاف ہو گیا اور غیروں کے ساتھ مل کر آپ کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی۔آپ نے اُس زمانہ میں اسلام کا پیغام جس جوش سے دنیا تک پہنچایا اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے اور آپ کے ایک صحابی حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب کے حوالہ سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ بیان کیا ہے کہ اُس وقت آپ نے 20 ہزار کی تعداد میں اشتہار چھپوایا اور دنیا کے مختلف حصوں میں جہاں بھی اس زمانہ میں ڈاک جاسکتی تھی تمام بادشاہوں اور ارباب حکومت کو ، وزیروں کو، مدبرین کو مصنفین کو ، علماء کو،نوابوں وغیرہ کو وہ اشتہار بھجوایا۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب آپ کا دعوی مسیحیت نہیں تھا بلکہ مجدد کے طور پر آپ نے پیغام دیا تھا اور اسلام کی خوبیاں بیان کی تھیں۔بہر حال اس پیغام سے جب یہ دنیا میں مختلف جگہوں پر گیا تھا۔تو دنیا کے لوگوں میں ایسی خاص کوئی ہل جل پیدا نہیں ہوئی لیکن ہندوستان کے اندر جو دوسرے مذاہب تھے جن کا اندازہ تھا کہ اب ہم نے مسلمانوں کو اپنے اندر سمیٹا ہی سمیٹا ، ان پر ایک زلزلہ آ گیا۔جب ان لوگوں نے دیکھا کہ اسلام کے دفاع میں ایک کتاب لکھی گئی ہے اور اب براہ راست مقابلہ کے لئے اور اسلام کی عظمت بیان کرنے کے لئے اشتہارات بھی تقسیم کئے جا رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ غیر مسلم جو بھی حربہ اسلام کے خلاف استعمال کر سکتے تھے انہوں کیا۔جیسا کہ میں نے کہا بعض مسلمان بھی اپنی کینہ پروری کی وجہ سے ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے اور آپ کے خلاف ہو گئے۔بہر حال اس صورت حال میں آپ نے بڑے درد سے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں کہ میں تیرے آخری اور کامل دین اور حضرت خاتم الانبیا ہے جو تیرے بہت زیادہ پیارے ہیں ان کے دفاع کے لئے سب کچھ کر رہا ہوں اس لئے اے اللہ تو میری مدد کر۔اور اس سوچ کے ساتھ آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ایک چلہ کشی کریں۔یعنی چالیس دن تک علیحدہ ایک جگہ پر اللہ تعالیٰ سے خاص دعائیں کریں تا کہ خدا تعالیٰ سے اسلام کی سچائی اور آنحضرت ﷺ کی صداقت کا خاص تائیدی نشان مانگیں۔اس کے لئے پہلے آپ نے استخارہ کیا کہ کس جگہ پر چلہ کشی کی جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ بتایا گیا کہ یہ چلہ کشی کا مقام ہوشیار پور ہوگا۔چنانچہ آپ نے اس مقصد کے لئے ہوشیار پور کا سفر اختیار کیا۔آپ کے ساتھ اس وقت تین ساتھی تھے جن میں ایک تو مولوی عبداللہ سنوری صاحب تھے، حافظ حامد علی صاحب تھے اور فتح خان صاحب تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک دوست شیخ مہر علی صاحب کو جو ہوشیار پور کے تھے خط لکھا کہ میں وہاں دوماہ کے لئے آ رہا ہوں۔میرے لئے ایک علیحدہ گھر کا انتظام کر دیں تاکہ علیحدگی میں صحیح طرح خدا تعالیٰ کی عبادت ہو سکے۔آپ نے اپنے ساتھیوں کو بھی کہہ دیا کہ اس عرصہ میں کوئی مجھے نہ ملے اور کسی قسم کی ملاقاتیں نہیں ہوں گی۔بہر حال شیخ صاحب نے اپنا ایک مکان جو شہر سے باہر تھا اس میں آپ کا انتظام کروا دیا۔آپ وہاں چلہ کشی کے لئے 22 جنوری 1886ء کو پہنچے اور دوسری منزل میں جا کر اپنے ٹھہر نے کا فیصلہ فرمایا اور اپنے ساتھیوں کو ہدایت کر دی۔( جیسا کہ بعد میں انہوں نے بتایا کہ نہ کوئی مجھے ملے