خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 89
خطبات مسرور جلد ہفتم 8 89 خطبہ جمعہ فرموده 20 فروری 2009 فرمودہ مورخہ 20 رفروری 2009ء بمطابق 20 تبلیغ 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے وہ پہلوان ہیں جن کو خود خدا تعالیٰ نے جری اللہ کہہ کر مخاطب فرمایا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ خطاب آپ کو کیوں عطا فرمایا؟ اس لئے کہ بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ ، آنحضرت ﷺ اور اسلام کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی اور آپ اسلام کے دفاع کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ہر مذہب کے بارہ میں آپ کا گہرا مطالعہ اور علم تھا اور ہر مذہب کے مقابل پر اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لئے آپ ہمہ وقت مصروف رہتے تھے۔جب ہندوستان میں عیسائی مشنریز کا زور ہوا اور اسلام اور بانی اسلام لے کے خلاف سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں۔اس زمانہ میں لا تعداد پمفلٹ اور اشتہارات تقسیم ہوئے جس نے مسلمانوں کو عیسائیت کی جھولی میں ڈالنا شروع کر دیا اور جو عیسائیت میں شامل نہیں ہوئے ان میں سے لاتعداد مسلمان ایسے تھے جن کے ذہنوں میں اسلام کی تعلیم کے خلاف شبہات پیدا ہونے لگے۔اور پھر عیسائیت کے اس حملے کے ساتھ ہی آریہ سماج اور برہمو سماج اٹھے۔یہ تحریکیں بھی پورے زور سے شروع ہوئیں اور مسلمانوں کا اس وقت یہ حال تھا کہ بجائے اس کے کہ دوسرے مذاہب کا مقابلہ کریں آپس میں دست وگریباں تھے ایک دوسرے پر تکفیر کے فتوے لگا رہے تھے۔اس وقت اسلام کی اس نازک حالت پر اگر کوئی حقیقت میں فکر مند تھا اور اسلام کا دفاع کرنا چاہتا تھا تو وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام تھے۔اس وقت اسلام پر جو حملے ہورہے تھے آپ نے ان سب کے توڑ کے لئے ایک کتاب لکھی جس کا نام براہین احمدیہ رکھا جس میں آپ نے قرآن کریم کو کلام الہی اور ہر لحاظ سے مکمل کتاب کے طور پر پیش کیا اور اسی طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت اور آپ کا افضل ہونا ثابت کیا اور نا قابل تردید دلائل سے ثابت کیا۔جس نے تمام مذاہب جو اسلام کے مقابلہ پر تھے اُن کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ اسلام کے خلاف ہر قسم کے اوچھے اور گھٹیا حملے کرنے میں اور زیادہ تیز ہو گئے۔آپ کے اس نئے انداز نے جو آپ نے براہین احمدیہ میں پیش فرمایا اور آپ کا اسلام کے دفاع کا ، اسلام کی تعلیم کی خوبصورتی بیان کرنے کا جو طریق تھا۔اس کو بہت سے مسلمان علماء نے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔لیکن جب آپ نے اشتہاروں وغیرہ کے ذریعہ سے