خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 87
87 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔جب انسان انسانیت میں ترقی کرے تو اس کو فر مایا کہ یہ استقامت ہے اور یہی اسم اعظم ہے کہ انسان انسانیت میں ترقی کرتا چلا جائے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمُ میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 37 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس انسانیت میں جو لا محدود کمالات ہیں۔ہر انسان کو ، ہر مومن کو اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی وسعت ہے اور اس کے لئے دعا کرتے رہنا چاہئے۔پھر ہماری اس دعا کرنے کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ کس طرح اس دعا کو وسیع کرنا چاہیئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” دعا کے بارہ میں یہ یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں دعا سکھلائی ہے یعنی اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اس میں تین لحاظ ر کھنے چاہئیں۔(1) ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھئے“۔(پوری دنیا کا جو انسان ہے اس کو اپنی دعا میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں شریک رکھے۔) (2) تمام مسلمانوں کو اپنی دعا میں شریک رکھو۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی صراط مستقیم پر چلائے۔) " تیسرے ان حاضرین کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں۔پس اس طرح کی نیت سے کل نوع انسان اس میں داخل ہوں گے اور یہی منشاء خدا تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس سے پہلے اسی سورۃ میں اس نے اپنا نام رب العالمین رکھا ہے جو عام ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے جس میں حیوانات بھی داخل ہیں۔پھر اپنا نام رحمان رکھا ہے اور یہ نام نوع انسان کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ یہ رحمت انسانوں سے خاص ہے اور پھر اپنا نام رحیم رکھا ہے اور یہ نام مومنوں کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ رحیم کا لفظ مومنوں سے خاص ہے اور پھر اپنا نام ملِكِ يَوْمِ الدين رکھا ہے اور بیہ نام جماعت موجودہ کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ يَومُ الدِّين وہ دن ہے جس میں خدا تعالیٰ کے سامنے جماعتیں حاضر ہوں گی۔سو اس تفصیل کے لحاظ سے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا ہے۔پس اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعا میں تمام بنی نوع انسان کی ہمدردی داخل ہے اور اسلام کا اصول یہی ہے کہ سب کا خیر خواہ ہو“۔(احکم جلد 2 شمارہ 33 مورخہ 29 را کتوبر 1898 ء صفحہ 4 کالم 2-1) پس ساری باتیں جو آپ نے سنیں یہ تقاضا کرتی ہیں کہ ہم دنیا کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔مسلمانوں کی ہدایت کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ انسانیت کو بھی تباہ ہونے سے بچائے۔آج کل جس نہج پر خدا تعالیٰ کو بھول کر انسانیت چل رہی ہے ، ایک ملک دوسرے ملک سے جس طرح ( ظاہر انہیں بھی) تو اندر ہی اندر پر خاش رکھے