خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 84

خطبات مسرور جلد ہفتم 84 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 اور وہ یہ ہے جو عملی صراط مستقیم حق النفس کا وہ صرف ایک ملکہ ہے جو بذریعہ ورزش کے انسان حاصل کرتا ہے“۔(عملی صراط مستقیم جو حق النفس کا ہے وہ صرف ایک خاص ملکہ ہے، ایک خاص چیز ہے جو انسان ورزش سے حاصل کرتا ہے۔ورزش کا مطلب ہے روحانی ورزش، عبادت، اللہ تعالیٰ کے لئے خاص طور پر ایک مجاہدہ کرنا اور ایک بالمعنی شرف ہے خواہ خارج میں کبھی ظہور میں آوے یا نہ آوے“۔( یہ ایک ایسا حقیقی بزرگی کا مقام ہے جو بظا ہر نظر آتا ہو یا نہ نظر آتا ہو لیکن اس کوشش کی وجہ سے جو انسان اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں مجاہدے کر رہا ہوتا ہے اس سے اس کو حاصل ہوتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ یہ آپ کو یا ہر ایک کو نظر آئے )۔لیکن حق العباد جو عملی صراط مستقیم ہے وہ ایک خدمت ہے اور تبھی متفق ہوتی ہے ( ظاہر ہوتی ہے، واضح ہوتی ہے ) کہ جب افراد کثیرہ بنی آدم کو خارج میں اس کا اثر پہنچے۔(جب دنیا کی مخلوق کی جو اکثریت ہے وہ ان کو نظر آرہی ہو اور اس کا اثر پہنچ رہا ہو۔یعنی بندہ اللہ تعالیٰ کے اور ایک انسان دوسرے بندوں کے حقوق ادا کر رہا ہو)۔فرمایا کہ اور شر ط خدمت کی ادا ہو جائے۔غرض تحقق عملی صراط مستقیم حق العباد کا ادائے خدمت میں ہے ( کہ ایک صحیح اور ثابت شدہ چیز ہے وہ تبھی ثابت ہوگی جب بندہ دوسرے بندوں کی خدمت کا حقیقی طور پر حق ادا کر رہا ہو۔ایسی صورت جب ہو گی تبھی عملی صراط مستقیم ہوگی۔فرمایا کہ اور عملی صراط مستقیم حق النفس کا صرف تزکیہ نفس پر مدار ہے اور جو صراط مستقیم ہے جس کے لئے آدمی دعا کرتا ہے، اپنے نفس کے لئے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم ، اس کا حقیقی نتیجہ تب ہی نکلے گا جبکہ انسان اپنے نفس کی پاکیزگی کی طرف کوشش کر رہا ہو۔کسی خدمت کا ادا ہونا ضروری نہیں“۔(اپنے نفس کی ادائیگی کے لئے ضروری نہیں ہے کہ دوسروں کی خدمت بھی کی جارہی ہو )۔فرمایا کہ یہ تزکیہ نفس ایک جنگل میں اکیلے رہ کر بھی ادا ہو سکتا ہے۔لیکن حق العباد بجز بنی آدم کے ادا نہیں ہو سکتا۔اس لئے فرمایا گیا جور ہبانیت اسلام میں نہیں“۔الحکم 24 جلد 9 نمبر 33 ستمبر 1905 ء صفحہ 4-3) اب نفس کا تزکیہا کیلا انسان جنگل میں رہ کے بھی کر سکتا ہے۔لیکن ایک معاشرے میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انسان پر جو ذمہ داریاں ڈالی ہیں۔وہ دوسرے بندوں کے حقوق ادا کرنا ہے اور بھی وہ صراط مستقیم پر چلنے والا انسان کہلائے گا جب اپنے ساتھیوں کے، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے، اپنے معاشرے کے، اپنے ہمسائے کے حق ادا کر رہا ہو۔تو یہ ایک ایسی وضاحت ہے جو اگر سمجھ آجائے تو یہ راستے دکھاتی ہے، راستے تک پہنچاتی ہے اور پھر انسان منزل تک پہنچتا ہے۔اس کے گہرے مطلب سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی مدد چاہئے۔اس لئے فرمایا کہ یہ دعا کرتے رہو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اس اقتباس میں تمام نیکیوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس کی توحید کے قیام پر مرکوز کر دیا گیا ہے اور یہی حقیقی ہدایت ہے جس کے لئے ایک مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔اس ضمن میں ایک جگہ نفوس کو شرک کی باریک راہوں