خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 73
خطبات مسرور جلد ہفتم 73 خطبه جمعه فرموده 6 فروری 2009 وعیوب مذاہب اس کو دیا جائے“۔( یعنی ایسا علم دیا جائے جس میں دوسرے مذہب کی خوبیوں اور خامیوں کا پوری طرح علم ہو ، ادراک ہو، ہم ہو )۔اور اقامت حج اور افہام خصم میں ایک ملکہ خارق عادت اس کو عطا کی ہو۔ا قامت بحج یعنی ایسی دلیلیں اور نشانات جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہوں وہ اس کو دیئے جائیں اور افہام خصم میں ایک ملکہ خارق عادت اس کو عطا ہو۔یعنی دلیل سے مخالفین کے جو سوال ہیں، جھگڑے ہیں ان کا جواب دیا جائے۔یہ ملکہ اس آنے والے کو خاص طور پر ایک نشان کے طور پر۔عطا کیا گیا ہے، یہ خارق عادت ہے۔پس بتاؤ ) ہر ایک پابند مذہب کو اس کے قبائح پر متنبہ کر سکے۔(یعنی ہر ایک مذہب کی برائیوں پر ان کو متنبہ کرے، ان کو اطلاع دے ) ” اور ہر ایک پہلو سے اسلام کی خوبی ثابت کر سکے اور ہر ایک طور سے روحانی بیماروں کا علاج کر سکے۔غرض آنے والے مصلح کے لئے جو خَاتَمُ الْمُصْلِحِین ہے دو جو ہر عطا کئے گئے ہیں۔ایک علم الھد کی جو مہدی کے اسم کی طرف اشارہ ہے جو مظہر صفت محمدیت ہے یعنی با وجود امیت کے علم دیا جانا ( یعنی لا علم ہونے کے باوجود علم دیا جانا۔اللہ تعالیٰ خود سکھاتا ہے۔یہ مہدی ہونے کی نشانی ہے اور دوسرے تعلیم دین الحق جو انفاس شفا بخش مسیح کی طرف اشارہ ہے“۔( روحانی شفا دینے کی طرف اشارہ ہے)۔یعنی روحانی بیماریوں کے دور کرنے کے لئے اور اتمام حجت کے لئے ہر ایک پہلو سے طاقت عطا ہونا اور صفت علم الحد کی اس فضل پر دلالت کرتی ہے جو بغیر انسانی واسطے کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا ہو اور صفت علم دین الحق افادہ اور تسکین قلوب اور روحانی علاج پر دلالت کرتی ہے“۔اربعین نمبر 2۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 356-357) یعنی پہلے علم دیا۔پھر اس کی پوری کوشش کی۔اس کو سیکھا سکھایا اور پھر آگے پھیلا یا تا کہ اس کا علاج ہو۔پس اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے مسیح و مہدی کا یہ مقام ہے جسے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لئے اور اسلام کی نئی زندگی کے لئے بھیجا ہے۔تا دنیا پر اسلام کی روشن تعلیم واضح اور عیاں ہو۔اللہ تعالیٰ دنیا کو اس مسیح و مہدی کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اللہ تعالیٰ ، جو ہادی ہے، کے بھیجے ہوئے اس مہدی کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے جس راستے پر چلے ہیں اس پر مستقل مزاجی سے قائم رہیں۔کبھی ٹھوکر نہ لگے۔اور اس منزل مقصود کی طرف چلتے رہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہے۔اس وقت میں چند جنازے بھی نمازوں کے بعد پڑھاؤں گا۔ایک ہے محترمہ خاتم النساء درد صاحبہ ہیں جو مکرم مولا نا محمد شفیع اشرف صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں۔78 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ لجنہ کے بھی کام کرتی رہیں۔اپنے خاوند جو مربی تھے ،مبلغ تھے ان کے ساتھ میدان عمل میں نہایت سادگی سے اور قناعت سے انہوں نے گزارا کیا۔خاموش طبع اور ملنسار تھیں۔دعا گو تھیں۔آپ کے دو بیٹے ہیں اور دونوں ہی واقف زندگی ہیں۔محمد احمد اشرف صاحب، فضل عمر ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں اور محمود احمد اشرف صاحب جامعہ احمد یہ ربوہ کے استاد ہیں۔اسی طرح دو بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔