خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 72

72 خطبه جمعه فرموده 6 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اپنے رسول کو ہدایت اور نیچے دین کے ساتھ بھیجا تا وہ اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔اور مجھ کو اس الہام کے یہ معنی سمجھائے گئے تھے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا میرے ہاتھ سے خدا تعالیٰ اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرے۔اور اس جگہ یادر ہے کہ یہ قرآن شریف میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی نسبت علماء محققین کا اتفاق ہے کہ یہ مسیح موعود کے ہاتھ پر پوری ہوگی۔سو جس قدر اولیاء اور ابدال مجھ سے پہلے گزر گئے ہیں کسی نے ان میں سے اپنے تئیں اس پیشگوئی کا مصداق نہیں ٹھہرایا اور نہ یہ دعویٰ کیا کہ اس آیت مذکورہ بالا کا مجھ کو اپنے حق میں الہام ہوا ہے۔لیکن جب میرا وقت آیا تو مجھ کو یہ الہام ہوا اور مجھ کو بتلایا گیا کہ اس آیت کا مصداق تو ہے اور تیرے ہی ہاتھ سے اور تیرے ہی زمانے میں دین اسلام کی فوقیت دوسرے دینوں پر ثابت ہوگی۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 232-231) پھر آپ فرماتے ہیں کہ وہ خدا جس نے اپنے فرستادہ کو بھیجا اس نے دو امر کے ساتھ اسے بھیجا ہے۔ایک تو یہ کہ اس کو نعمت ہدایت سے مشرف فرمایا ہے“۔(یعنی ہدایت دینے کی نعمت سے مشرف فرمایا )۔یعنی اپنی راہ کی شناخت کے لئے روحانی آنکھیں اس کو عطا کی ہیں“۔(اس ہدایت کے حاصل کرنے کے لئے تا کہ وہ آگے ہدایت دے سکے اللہ تعالیٰ نے روحانی آنکھ عطا فرمائی ہے۔اور علم لدنی سے ممتاز فرمایا ہے۔“ ( یعنی ایسا علم بھی دیا ہے جو بغیر کوشش سے ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے دیا ہے )۔” اور کشف اور الہام سے اس کے دل کو روشن کیا ہے اور اس طرح پر الہی معرفت اور محبت اور عبادت کا جو اس پر حق تھا اس حق کی بجا آوری کے لئے آپ اس کی تائید کی ہے اور اس لئے اس کا نام مہدی رکھا۔اللہ تعالیٰ نے اوپر اطاعت میں جو یہ ساری تعریف کی تو اس لئے اس کا نام مہدی رکھا گیا)۔”دوسرا امر جس کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے وہ دین الحق کے ساتھ روحانی بیماروں کو اچھا کرنا ہے۔یعنی شریعت کے صدہا مشکلات اور معضلات حل کر کے دلوں سے شبہات کو دور کرنا ہے۔پس اس لحاظ سے اس کا نام عیسی رکھا ہے یعنی بیماروں کو چنگا کرنے والا۔غرض اس آیت شریف میں جود و فقرے موجود ہیں ایک بالھدی اور دوسرے دِینِ الحق ان میں سے پہلا فقرہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ فرستادہ مہدی ہے اور خدا کے ہاتھ سے صاف ہوا ہے اور صرف خدا اس کا معلم ہے۔اور دوسرا فقرہ یعنی دینِ الْحَقِّ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ فرستادہ عیسی ہے اور بیماروں کو صاف کرنے کے لئے اور ان کو ان کی بیماریوں پر متنبہ کرنے کے لئے علم دیا گیا ہے اور دین الحق عطا کیا گیا ہے تا وہ ہر ایک مذہب کے بیمار کو قائل کر سکے اور پھر اچھا کر سکے اور اسلامی شفاخانہ کی طرف رغبت دے سکے کیونکہ جبکہ اس کو یہ خدمت سپر د ہے کہ وہ اسلام کی خوبی اور فوقیت ہر ایک پہلو سے تمام مذاہب پر ثابت کر دے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ علم محاسن