خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 40
40 40 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پر الزام لگارہے ہیں اس ظلم کے وہ اُس کو نہ مان کر خود مرتکب ہو رہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ ایسے الزام لگانے والوں اور ظلم کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔اور جو اس کو قبول کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو ان کی برائیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے نیکیوں کا اجر دے گا اور مزید نیکیوں کی توفیق دے گا تا کہ تقویٰ میں بھی بڑھتے چلے جائیں۔پس یہاں یہ بات بتا کر کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے ، جھٹلانے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ تم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ خدا تعالیٰ اس کا مددگار ہے اور اسی طرح اس کے ماننے والوں کا مددگار ہے۔آنحضرت ﷺ کی زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر آپ کی اور آپ کے ماننے والوں کی مدد اور نصرت فرمائی۔آنحضرت ﷺ کی زندگی بھی اور صحابہ کی زندگی بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر لمحہ آپ کی مدد فرمائی، آپ کے صحابہ کی مددفرمائی۔بے شک جنگوں میں مسلمان شہید بھی ہوئے لیکن دشمنوں کے مقابلے پر ہمیشہ کم نقصان ہوا۔یادشمن وہ مقصد حاصل نہیں کر سکے جو وہ کرنا چاہتے تھے کہ اسلام کو ختم کر دیں۔اور آج تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم پر مخالفین اسلام نہایت گھٹیا اور رقیق حملے کرتے اور الزام لگاتے ہیں لیکن اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔اور آج بھی مسلمانوں میں ایک گروہ ہے اور بڑی تعداد میں ہے جو آپ کی لائی ہوئی شریعت کو اصل حالت میں اپنی زندگیوں پر لاگو کر رہا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت تک کے لئے بھیجے گئے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت زندہ ہے اور زندہ رہے گی انشاء اللہ۔اور دشمنان اسلام کی کوششیں اور دھمکیاں نہ پہلے اسلام کا کچھ بگاڑسکی تھیں نہ اب بگاڑ سکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں ان کے لئے کافی ہوں۔اپنے بندوں کو ان کے شر کے بد انجام سے ہمیشہ بچاؤں گا۔اور اس لئے اس زمانہ میں آنحضرت علہ کے عاشق صادق کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا کہ نئے جوش اور ولولے سے دشمنان اسلام کے حملوں کورڈ کریں۔کاش کہ مسلمان بھی اس حقیقت کو سمجھیں اور اس جری اللہ کی فوج میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے اس زمرے میں شامل ہو جائیں جن سے اللہ تعالیٰ کی مد کا ہمیشہ وعدہ ہے۔یہاں یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ الیسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ تو عبد سے کیا مراد ہے۔ہم کہہ دیتے ہیں کہ اللہ کا بندہ۔ہر انسان جو دنیا میں آیا ہے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس ناطے بندہ ہے۔طاقت اس کی کوئی نہیں لیکن حقیقی عبد سے مراد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی کامل غلامی کا جوا اپنی گردن پر ڈالتا ہے۔جو اس کے دین کا مددگار ہے۔جو نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانے والوں میں شامل ہے۔واللہ تعالیٰ کا عبادت گزار ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ بڑائی بیان کرنے والا ہے۔جو اللہ تعالیٰ سے گہرا پیار کا تعلق رکھنے والا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے لئے بہت