خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 530 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 530

530 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 2009 يَتَّقُونَ (یونس: 64) یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور تقویٰ پر چلنے والے ہیں، یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے ولی ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے اولیاء کی یہ خصوصیت اور صفت ہے کہ وہ ایمان میں بڑھتے چلے جانے والے ہوتے ہیں۔تقویٰ کا اعلیٰ نمونہ بھی قائم کرنے والے ہوتے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو لایا جائے گا۔اور وہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے۔ان کو تین قسموں میں تقسیم کیا جائے گا۔اولیاء کی بھی آگے قسمیں ہیں۔پہلے ایک قسم کا آدمی لایا جائے گا۔( یعنی اللہ تعالیٰ نے اس گروپ میں سے ایک نمائندہ بلایا۔اس سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ اے میرے بندے! تو نے نیک اعمال کس وجہ سے کئے تھے ؟ وہ عرض کرے گا کہ اے میرے رب آپ نے جنت پیدا کی اور اس کے درخت اور پھل پیدا کئے اور نہریں پیدا کیں اور اس کی حوریں اور اس کی نعمتیں اور جو کچھ بھی آپ نے اپنی اطاعت کرنے والوں کے لئے تیار کیا ہے سب کچھ بنایا۔پس میں نے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے شب بیداری کی۔راتوں کو اٹھا نفل ادا کئے اور دن کو روزے رکھے۔اس پر خدا تعالیٰ اسے فرمائے گا کہ اے میرے بندے! تو نے صرف جنت کی خاطر اعمال کئے۔سو یہ جنت ہے اس میں داخل ہو جاؤ۔اور یہ میرا فضل ہی ہے کہ میں نے تجھے آگ سے آزاد کر دیا اور یہ بھی فضل ہے کہ میں تجھے جنت میں داخل کروں گا۔پس وہ اور اس کے ساتھی جنت میں داخل ہو جائیں گے۔پھر دوسری قسم کے آدمیوں میں سے ایک آدمی لایا جائے گا۔اس سے بھی اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ اے میرے بندے! تُو نے نیک اعمال کس لئے کئے تھے؟ وہ جواب دے گا کہ اے میرے رب ! تُو نے دوزخ پیدا کی اور اس کی بیڑیاں اور اس کی شعلہ زن آگ اور اس کی گرم ہوائیں اور گرم پانی اور جو کچھ بھی تو نے اپنے نافرمانوں اور دشمنوں کے لئے تیار کیا ہے، پیدا کیا۔پس میں نے ان چیزوں سے ڈرتے ہوئے رات کو اٹھ کر نفل پڑھے اور دن کو روزے رکھے۔اس پر خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ اے میرے بندے! تو نے یہ کام صرف میری آگ سے ڈرتے ہوئے کئے تھے۔پس میں نے تجھے آگ سے آزاد کیا اور اپنے فضل سے تجھے اپنی جنت میں داخل کروں گا۔پس وہ بھی اپنے ساتھیوں سمیت داخل ہو جائے گا۔اس کے بعد تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک آدمی لایا جائے گا۔اس سے بھی خدا تعالیٰ پوچھے گا کہ اے میرے بندے ! تو نے نیک کام کس وجہ سے کئے تھے؟ وہ کہے گا۔اے میرے رب ! تیری محبت کی وجہ سے اور تیرے ملنے کے شوق میں۔تیری عزت کی قسم ! میں راتوں کو جاگا اور میں نے دن کو روزے رکھے صرف تیرے شوق اور تیری محبت میں۔پس مبارک اور بہت بلند خدا اس سے فرمائے گا کہ اے میرے بندے ! تو نے یہ تمام کام میری محبت اور میری ملاقات کے شوق کی وجہ سے کئے تھے۔سو اپنا بدلہ لے اور اللہ جل جلالہ اس شخص کے لئے خاص تجلی فرمائے گا اور