خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 496
496 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 2009 ایسا ایمان جس میں دنیا کی ملونی نہ ہو۔ایمان لانے کے بعد وہ اللہ کے نور کی تلاش میں مزید ترقی کی طرف قدم بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔انہیں پھر اللہ تعالیٰ کا میابیاں عطا فرماتا ہے۔یہاں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے کا مطلب ہے کہ روحانی اور جسمانی کمزوریوں سے روحانی اور جسمانی ترقی اور مضبوطی کی طرف لے جانا۔پس اللہ تعالیٰ اعلان فرما رہا ہے کہ جو ایمان لائے اللہ تعالیٰ انہیں انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی روحانی اور جسمانی کامیابیاں عطا فرمائے گا اور ان کو تکلیفوں اور پریشانیوں سے نجات دے گا۔مگر شرط ایمان لانا اور اس میں ترقی کرنا ہے اور یہ ترقی اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پڑھنے، سمجھنے اور ان پر عمل کرنے سے ہوتی ہے اور جو اس طرح عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کا ویسی ہو جاتا ہے۔کوئی مخالف کوئی دشمن، کوئی دنیا کی حکومت ایسے لوگوں کو ختم نہیں کر سکتی۔لیکن یہاں یہ بات بھی واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنوں پر مشکلات بھی آتی ہیں، مصیبتیں بھی آتی ہیں۔جان ، مال اور اولا د کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔اگر یہ سب کچھ ہے تو پھر یہ کہنا کہ جسمانی مشکلات سے بھی نکالتا ہے ، اس کا کیا مطلب ہوا ؟ اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جانے کا یہ تو مطلب لیا جا سکتا ہے کہ ایمان لانے والوں کے روحانی ترقی میں قدم آگے بڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا دوست ہو کر ان لوگوں کو روحانیت میں ترقی دیتا چلا جاتا ہے اور پھر آخرت میں جیسا کہ اس نے وعدہ فرمایا ہے اجر سے نوازے گا۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ مومن جب اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان لاتا ہے تو صرف اپنی ذات کا مفاد اور ذاتی تکالیف اس کے پیش نظر نہیں ہوتیں بلکہ وہ جماعتی زندگی کی طرف دیکھتا ہے۔بے شک ایک مومن کو ذاتی طور پر جسمانی اور مادی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن یہ انفرادی نقصانات بھی اگر وہ دین کی خاطر ہورہے ہوں تو اکثر اوقات جماعتی ترقی کا باعث بنتے ہیں۔اسلام کی ابتداء میں جب مکہ میں آزادی سے تبلیغ نہیں کی جاسکتی تھی اور مسلمان بڑی سخت مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے۔اس زمانہ میں جب مسلمانوں نے قربانیاں دیں تو کیا وہ قربانیاں رائیگاں گئیں؟ جو مسلمان اس وقت ظلموں کا نشانہ بنائے گئے کیا وہ بے فائدہ تھے؟ نہیں، ہر گز نہیں۔اُس وقت بھی جب وہ مٹھی بھر مسلمان تھے، اُن کی ہر قربانی ان کے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرنے والی بنتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ جماعتی ترقی کا بھی باعث بنتی چلی جاتی تھی۔اس سے تبلیغ نہیں رک گئی۔مسلمان ہونا یا اسلام میں شامل ہونا اس سے رک نہیں گیا۔ظلموں کے با وجود ترقی پر قدم پڑتے چلے گئے۔پھر ان ظلموں کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑی تو ہجرت کرنے پر اللہ تعالیٰ نے مزید ترقی کے دروازے کھولے۔عددی لحاظ سے بھی اور مالی لحاظ سے بھی مسلمان بڑھتے چلے گئے کہ وہی کفار مکہ جو ظلم کرنے والے تھے وہ مسلمانوں کے زیر نگیں ہو گئے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ بھی دیکھ لیں۔ہر ابتلا اور امتحان جہاں جماعت کی روحانی ترقی کا باعث بنتا ہے اور بنا