خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 480

480 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرمودہ 9اکتوبر 2009 کثرت جماعت میں عزت میں، مرتبت میں، دوسرے فرقہ سے برتر خیال کرتے ہیں اس وقت کے مسلمانوں یعنی صحابہ سے سخت دشمنی کا برتاؤ کیا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آسمانی پودا زمین پر قائم ہو۔بلکہ وہ ان راستبازوں کے ہلاک کرنے کے لئے اپنے ناخنوں تک زور لگارہے تھے اور کوئی دقیقہ آزار رسانی کا اٹھا نہیں رکھا تھا اور ان کو خوف یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ اس مذہب کے پیر جم جائیں اور پھر اس کی ترقی ہمارے مذہب اور قوم کی بربادی کا موجب ہو جائے۔سو اسی خوف سے جو ان کے دلوں میں ایک رعب ناک صورت میں بیٹھ گیا تھا نہایت جابرانہ اور ظالمانہ کارروائیاں ان سے ظہور میں آئیں اور انہوں نے دردناک طریقوں سے اکثر مسلمانوں کو ہلاک کیا اور ایک زمانہ دراز تک جو تیرہ برس کی مدت تھی ان کی طرف سے یہی کارروائی رہی اور نہایت بے رحمی کی طرز سے خدا کے وفادار بندے اور نوع انسان کے نخران شریہ درندوں کی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور یتیم بچے اور عاجز اور مسکین عورتیں کو چوں اور گلیوں میں ذبح کئے گئے۔اس پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے قطعی طور پر بی تا کی تھی کہ شر کا ہرگز مقابلہ نہ کرو۔چنانچہ ان برگزیدہ راستبازوں نے ایسا ہی کیا۔ان کے خونوں سے کوچے سرخ ہو گئے پر انہوں نے دم نہ مارا۔وہ قربانیوں کی طرح ذبح کئے گئے پر انہوں نے آہ نہ کی۔خدا کے پاک اور مقدس رسول کو جس پر زمین اور آسمان سے بے شمار سلام ہیں، بار ہا پتھر مار مار کر خون سے آلودہ کیا گیا۔مگر اس صدق اور استقامت کے پہاڑ نے ان تمام آزاروں کی دلی انشراح اور محبت سے برداشت کی اور ان صابرانہ اور عاجزانہ روشوں سے مخالفوں کی شوخی دن بدن بڑھتی گئی اور انہوں نے اس مقدس جماعت کو اپنا ایک شکار سمجھ لیا۔تب اس خدا نے جو نہیں چاہتا کہ زمین پر ظلم اور بے رحمی حد سے گزر جائے اپنے مظلوم بندوں کو یاد کیا اور اس کا غضب شریروں پر بھڑ کا اور اس نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے اپنے مظلوم بندوں کو اطلاع دی کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔میں تمہیں آج سے مقابلہ کی اجازت دیتا ہوں اور میں خدائے قادر ہوں، ظالموں کو بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔یہ حکم تھا۔جس کا دوسرے لفظوں میں جہاد نام رکھا گیا اور اس حکم کی اصل عبارت جو قرآن کریم میں اب تک موجود ہے یہ ہے أذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حق ( الج: 40-41) یعنی خدا نے ان مظلوم لوگوں کی جو قتل کئے جاتے ہیں اور نا حق اپنے وطن سے نکالے گئے فریاد سن لی اور ان کو مقابلہ کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے جو مظلوم کی مدد کرے۔( الجزو 17 سورۃ الحج ) مگر یہ حکم مختص الزمان و الوقت تھا ہمیشہ کے لئے نہیں تھا ( اس زمانے کے لئے اور اس وقت کے لئے مختص تھا، خاص تھا ) بلکہ اس زمانے کے متعلق تھا جبکہ اسلام میں داخل ہونے والے بکریوں اور بھیٹروں کی طرح ذبح کئے جاتے تھے۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 5-6 ) پس اللہ تعالیٰ جو سب طاقت والوں سے زیادہ طاقتور اور قوی ہے اس کا غضب مظلوم کے لئے بھڑ کا اور جیسا کہ