خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 472
خطبات مسرور جلد هفتم 472 خطبه جمعه فرموده 2 اکتوبر 2009 ان ابتلاؤں سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے دُور ہو گئے۔اس ابتلاء میں بھی وہ کریم اور رحیم ہے)۔پھر آپ فرماتے ہیں گو کیسے عوارض شدیدہ ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل کی راہیں ہمیشہ کھلی ہیں۔اس کی رحمت کا امید وار رہنا چاہئے۔ہاں اس وقت اضطراب میں تو بہ واستغفار کی بہت ضرورت ہے۔یہ ایک نکتہ یا درکھنے کے لائق ہے کہ جو شخص کسی بلا کے نزول کے وقت میں کسی ایسے عیب اور گناہ کو تو بہ نصوح کے طور پر ترک کر دیتا ہے جس کا ایسی جلدی سے ترک کرنا ہرگز اس کے ارادہ میں نہ تھا۔تو یہ عمل اس کے لئے کفارہ عظیم ہو جاتا ہے“۔( اگر کوئی بلا آئے کوئی مصیبتیں آئیں، کوئی امتحان آئیں تو اس وجہ سے اگر کوئی اپنی کسی برائی کو چھوڑتا ہے، کسی گناہ کو ترک کرتا ہے اور اس سے سبق حاصل کرتا ہے تو فرمایا کہ پھر اس کے لئے یہ ایک کفارہ عظیم بن جاتا ہے اور اس کے سینہ کے کھلنے کے ساتھ ہی اس بلا کی تاریکی کھل جاتی ہے اور روشنی امید کی پیدا ہو جاتی ہے۔مکتوبات جلد دوم صفحہ 98 مکتوب نمبر 63 بنام حضرت خلیفہ اول - مطبوعه نظارت اشاعت ربوہ) اور جب ایسا ہوتا ہے تو جہاں انسان کا سینہ کھلتا ہے ان بلاؤں کی وجہ سے جواند ھیرا پھیلا ہوا ہے وہ بھی روشنی میں بدل جاتا ہے اور روشنی کی امید پیدا ہو جاتی ہے۔پس جیسا کہ میں نے بتایا آجکل بھی جو حالات ہیں ان میں افراد جماعت کو دنیا میں ہر جگہ دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اپنی غلطیوں پر نظر رکھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کا وصال حاصل کرنے کی کوشش کی ضرورت ہے۔انفرادی کوششیں ہی ہیں جو جب ہر فرد جماعت کرتا ہے تو وہ جماعتی دھارے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور یہ اکٹھی ہو کر جمع ہو کر جب آسمان کی طرف جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور رحمتوں کو کھینچ کر لاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر فرد جماعت کو اس روح کے ساتھ خاص دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ جس طرف حالات جارہے ہیں لگتا ہے کہ احمدیوں کو پاکستان میں خاص طور پر ابھی مزید امتحانوں میں سے گزرنا پڑے گا۔یہ سمجھتے ہیں کہ احمدی آسان ٹارگٹ ہیں اس لئے اس ذریعہ سے ہم جو ملک میں دوسری افرا تفری ہے ختم کر کے توجہ صرف احمدیوں کی طرف پھیر دیں تو مسائل حل ہو جائیں گے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ان بیوقوفوں کو نہیں پتہ کہ وہ احمد یوں کو نقصان نہیں پہنچا رہے بلکہ لاشعوری طور پر ان لوگوں کے ہاتھ میں کھلونا بن کر جو ملک کو توڑنا چاہتے ہیں ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔پس پاکستان کے لئے بھی بہت زیادہ دعا کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔آج میں پھر ایک شہید کا جنازہ پڑھاؤں گا جنہیں گزشتہ دنوں شہید کیا گیا۔ان کا نام محمد اعظم طاہر صاحب ہے۔اوچ شریف کے رہنے والے ہیں ، ان کے والد کا نام حکیم محمد افضل صاحب ہے۔26 ستمبر کو ان کو شہید کیا گیا انا