خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 454
خطبات مسرور جلد ہفتم 454 ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 (صحیح بخاری۔کتاب الرقاق۔باب التواضع حدیث 6502) پس اللہ تعالیٰ نوافل ادا کرنے والوں اور تہجد ادا کرنے والوں کے اتنا قریب آ جاتا ہے۔اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور رمضان گزرنے کا یہ مطلب نہیں کہ پھر اسی طرح راتوں کو ضائع کریں اور دیر تک فضول مجلسیں لگائی جائیں اور صبح کی نماز کے لئے اٹھنا مشکل ہو جائے۔نہیں، بلکہ اُن راتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو اللہ تعالیٰ کو قریب لانے والی ہوں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والی ہوں۔رمضان نے جو ہمیں عباد الرحمن بننے کے اسلوب سکھائے ہیں ان پر عمل کرتے ہوئے ہمارا یہ کام ہے کہ اپنی راتوں کو عبادتوں سے سجائے رکھیں۔یہی چیز ہے جو ہمارے حق میں جیسا کہ میں نے کہا انشاء اللہ تعالیٰ جلد انقلاب لانے والی ہوگی۔آنحضرت ﷺ کے صحابہ نے اس کا حق ادا کیا اور دنیا نے دیکھا کہ وہ کیا انقلاب لائے۔دن کو اگر ان کو مجبوری کی وجہ سے جنگ کرنی پڑتی تھی تو راتوں کو وہ آرام نہیں کرتے تھے بلکہ راتیں عبادتوں میں گزارتے تھے۔جب تک مسلمانوں میں راتوں کی عبادت کا یہ طریق قائم رہا ان کی ترقی ہوتی رہی۔آج یہ احمدی کی ذمہ داری ہے کہ اس پر عمل کرے۔اور احمدیت اور اسلام کی ترقی کے لئے بہت زیادہ دعائیں کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : عرب اور دنیا کی حالت جب رسول اللہ ﷺ آئے کسی سے پوشیدہ نہیں۔بالکل وحشی لوگ تھے۔کھانے پینے کے سوا کچھ نہیں جانتے تھے۔نہ حقوق العباد سے آشنا، نہ حقوق اللہ سے آگاہ۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایک طرف ان کا نقشہ کھینچ کر بتلایا کہ يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الانْعَامُ ( سورة محمد : 13) یعنی صرف ان کا کام کھانا پینا تھا اس طرح کھاتے تھے جس طرح جانور کھاتے ہیں۔پھر رسول اللہ ﷺ کی پاک تعلیم نے ایسا اثر کیا کہ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وقِیاما کی حالت ہوگئی۔یعنی اپنے رب کی یاد میں راتیں سجدے اور قیام میں گزار دیتے تھے۔اللہ اللہ کس قدر فضیلت ہے۔رسول اللہ کے سبب سے ایک بے نظیر انقلاب اور عظیم الشان تبدیلی واقع ہوگئی۔حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں کو میزان اعتدال پر قائم کر دیا اور مردار خوار اور مردہ قوم کو ایک اعلیٰ درجہ کی زندہ اور پاکیزہ قوم بنا دیا۔دوہی خوبیاں ہوتی ہیں، علمی یا عملی عملی حالت کا تو یہ حال ہے کہ يَتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا اور علمی کا یہ حال ہے کہ اس قدر کثرت سے تصنیفات کا سلسلہ اور توسیع زبان کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 180 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )