خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 453 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 453

453 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 سے پیش آئیں تو سلامتی اور رحمت کے لفظوں سے ان کا معاوضہ کرتے ہیں۔ہمارا واسطہ انتہائی جاہل لوگوں سے ہے اور اس کے لئے اپنے جذبات کو بہت زیادہ کنٹرول کرتے ہوئے سلامتی اور رحمت کا طریق اختیار کرنے کا اظہار کرنا ہے۔فرمایا کہ: ” بجائے سختی کے نرمی اور بجائے گالی کے دعا دیتے ہیں اور تشبہ باخلاق رحمانی کرتے ہیں کیونکہ رحمن بھی بغیر تفریق نیک و بد کے اپنے سب بندوں کو سورج اور چاند اور زمین اور دوسری بے شمار نعمتوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔پس ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے اچھی طرح کھول دیا کہ رحمن کا لفظ ان معنوں کر کے خدا پر بولا جاتا ہے کہ اس کی رحمت وسیع عام طور پر ہر یک بُرے بھلے پر محیط ہورہی ہے۔( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 449 بقیہ حاشیہ (11) پس آج بھی اور آئندہ بھی ہم نے ہر ایک بُرے بھلے، دوست دشمن پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پر تو بننے کی کوشش کرتے ہوئے ، رحمت کا سلوک کرتے چلے جانا ہے۔درگزر کا سلوک کرتے چلے جانا ہے اور دعاؤں سے اپنے لئے مدد مانگی ہے اور دوسروں کی ہدایت کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتی ہے تا کہ ہم ہمیشہ عباد الرحمن میں شامل رہیں۔پھر تیسری خصوصیت عبادالرحمن کی یہ بتائی کہ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا کہ اپنے رب کے لئے راتیں سجدے کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔گزشتہ دنوں چند دن کے لئے ایک بہت بڑی تعداد نے اس پر عمل کیا۔لیکن خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ عبادالرحمن چند دن گزارتے ہیں۔بلکہ مستقل اپنی راتیں عبادت اور قیام میں گزارتے ہیں۔سجدے اور قیام میں گزارتے ہیں۔پس یہ ایک احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔خاص طور پر ان حالات میں جبکہ دنیا کے تمام مسلمان ممالک میں احمدیوں کے لئے مصائب اور مشکلات کا دور ہے کہ احمدی نہ صرف اپنی فرض نمازوں کی طرف توجہ دیں بلکہ اپنی راتوں کو نوافل سے سجائیں اور تہجد کی طرف توجہ دیں۔کیونکہ راتوں کو اٹھنا نفس کو کچلنا ہے۔یہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔اگر ہم خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور راتوں کو عبادت کرنے والے بنیں گے تو یہی چیز انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی مشکلات کے دور کرنے کا باعث بنے گی۔پس یہ مد نظر رہنا چاہئے کہ راتوں کو اٹھنا صرف ذاتی اغراض کے لئے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور جماعتی ترقی کے لئے اور دعاؤں کے لئے ہو۔اگر دنیا میں ہر احمدی خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہوئے جماعتی ترقی کے لئے رات کے کم از کم دو نفل اپنے اوپر لازم کر لے تو انشاء اللہ تعالیٰ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی مدد پہلے سے بڑھ کر ہمارے شامل حال ہوتی ہے اور کس طرح اللہ تعالی دشمن کی دشمنیاں اور مخالفین کی مخالفتیں ہوا میں اڑا دیتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نوافل کے ذریعہ مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ