خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 406
406 خطبه جمعه فرموده 28 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم 1951ء میں جامعتہ المبشرین کی پہلی کامیاب ہونے والی شاہد کلاس میں آپ شامل تھے اور اس کی الوداعی پارٹی میں حضرت مصلح موعودؓ نے بھی شرکت فرمائی اور جو جوابی ایڈریس حضرت مولوی صاحب نے پیش کیا اس پر حضرت مصلح موعودؓ نے بڑی خوشنودی کا اظہار فرمایا۔آپ نے جامعتہ المبشرین سے شاہد کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جماعت اسلامی پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا۔اس کا عنوان بھی خود حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تجویز فرمایا تھا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی راہنمائی میں ہی آپ نے یہ مضمون لکھا اور حضرت امیر مینائی کے جانشین اور حضرت مسیح موعود کے صحابی حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نے مختلف وقتوں میں ان کی راہنمائی بھی فرمائی۔جیسا کہ میں نے کہا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے 1953ء میں آپ کے سپر د تاریخ احمدیت کی تدوین کا کام د کیا تھا جس کی 20 جلدیں مکمل ہو چکی ہیں اور خلافت خامسہ کی تاریخ کا کام بھی جاری ہے۔40 سے زائد آپ کی تالیفات ہیں جو مختلف موضوعات پر چھپ چکی ہیں اور بعضوں کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔بڑی ہی علمی ادبی شخصیت تھے اور روایتی رکھ رکھاؤ والے آدمی تھے۔اور تحریر وتقریر میں ایک خاص ملکہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو آواز بھی خوب دی تھی۔1974ء میں حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کی قیادت میں جو نمائندہ وفد اسمبلی میں گیا تھا وہاں اس وفد میں حضرت مولوی صاحب بھی شامل تھے۔آپ اس وفد کے آخری رکن تھے جن کی وفات ہوئی ہے۔وہاں بھی معلومات اور حوالوں کی فراہمی کی ذمہ داری آپ کے سپرد کی گئی اور آپ جب بھی حوالے نکال کر دیتے تھے تو ممبران اسمبلی بڑے حیرت زدہ ہو جایا کرتے تھے۔بلکہ وہاں اس دوران میں ایک دفعہ ایک ممبر اسمبلی نے بڑی حیرانی کا اظہار بھی کیا کہ ہمارے علماء کو حوالے نکالنے کی ضرورت پڑتی ہے تو کئی کئی دن لگ جاتے ہیں اور مصیبت پڑ جاتی ہے۔ان مرزائیوں کا یہ چھوٹا سا مولوی ہے، یہ پتہ نہیں پندرہ منٹ میں حوالے نکال کے لے آتا ہے۔جلسوں میں بھی آپ کو بڑا لمبا عرصہ تقریر کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی۔1957ء کے جلسہ میں آپ نے شہبینہ اجلاس میں پہلی بار تقریر کی اور 1958ء میں آپ کی یہ تقریر شائع ہوئی اور اس کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اتنا پسند فرمایا کہ شوری میں خاص طور پر اس کا ذکر فرمایا۔ریسرچ سیل میں بھی کام کیا۔قاضی کے طور پر بھی کام کیا اور وفات تک آپ مجلس شوری پاکستان کے مبرر ہے اور آپ کو بحیثیت نمائندہ خصوصی اور اعزازی ممبر جو خلیفہ اُسیح کی طرف سے منتخب ہوتا ہے شرکت کا موقع ملا۔اور 1992ء۔1993ء میں کیمبرج کے مشہور بین الاقوامی ادارہ انٹر نیشنل بائیوگرافیکل سنٹر نے آپ کو مین آف دی ایئر (Man of the Year) کا اعزاز بھی دیا تھا اور یہ جو