خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 407 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 407

407 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرمود : 28 اگست 2009 اعزاز ہے ایسی خاص علمی شخصیات کو دیا جاتا ہے جن کی صلاحیتوں کا میابیوں اور قیادت کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے۔1994ء میں بھارت کے صوبہ تامل ناڈو کے شہر کو مجھے ٹور (Coimbatore) میں جماعت احمدیہ اور جماعت اہل قرآن وحدیث کے مابین ایک مناظرہ ہوا۔یہ مناظرہ وہاں کے ایک ہوٹل کے وسیع ہال میں ہوا تھا۔9 روز تک جاری رہا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم اللہ تعالی کے کہنے پر آپ وہاں گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی آپ کو فتح سے نوازا اور آپ نے جماعت احمدیہ کی خوب نمائندگی کی۔اور اس دوران جب آپ وہاں تھے آپ کی ایک بیٹی کی شادی بھی ہوئی جس میں آپ شامل نہیں ہوئے بلکہ دو بیٹیوں کی شادیاں اس صورت میں ہوئیں کہ آپ دوروں پر ہوتے تھے اور اس دن پہنچتے تھے جس دن شادی تھی۔اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی کہ میرے ذاتی کام کیا ہیں۔1982ء میں آپ کو اسیر راہ مولیٰ بننے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔چند روز آپ ربوہ کی حوالات میں رہے۔اپریل 1988ء میں دوبارہ ڈسٹرکٹ جیل گوجر انوالہ میں آپ کو قید کر کے رکھا گیا۔پھر 1990ء میں حج نے آپ کی ضمانت منسوخ کر دی اور دو دو سال قید با مشقت اور پانچ پانچ ہزار روپے جرمانہ کی آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سزا دی گئی۔بہر حال کچھ عرصہ کے بعد پھر یہ ضمانت پر رہا ہو گئے۔جیل میں بھی آپ نے درس قرآن اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔مولوی صاحب اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جب میں نے دو ہفتہ کے لئے اپنا بستر رات کو اپنے معمول کے مطابق دفتر میں ہی بچھا رکھا تھا۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے فون کے لئے منتظر بیٹھا تھا تو اتنے میں ثاقب زیروی صاحب جو لاہور کے ایڈیٹر تھے وہ آئے۔انہوں نے کہا میں ابھی حضور سے مل کے آ رہا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو فرمایا کہ ابھی فون کر کے فلاں فلاں جو حوالہ ہے وہ مولوی صاحب سے کہو بھجوا دیں۔تو ثاقب صاحب کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ ابھی رات ہو گئی ہے، اب کہاں مولوی صاحب ملیں گے۔تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ اپنے دفتر شعبہ تاریخ میں اس وقت بیٹھے ہوں گے۔ثاقب صاحب نے کہا کہ میں صرف چیک کرنے آیا ہوں کہ واقعی آپ دفتر میں ہیں کہ نہیں۔تو دن رات آپ کا یہ کام تھا کہ خدمت دین میں مصروف رہیں۔خلیفہ وقت کی طرف سے جب بھی کوئی کام آجاتا خواہ رات کے دو بجے ہوتے ، اسی وقت اٹھ کر کام شروع کر دیتے اور کام مکمل ہونے تک پھر اور کوئی کام نہیں کرتے تھے اور نہ آرام کرتے تھے، بلکہ کہا کرتے تھے کہ میں کوئی اور کام کرنا جائز ہی نہیں سمجھتا۔ڈاکٹر مبشر صاحب نے بتایا کہ وفات سے چند روز پہلے انہوں نے کہا کہ مجھے ڈاکٹر عبد السلام صاحب کی آواز آئی ہے کہ رہے ہیں۔السلام علیکم۔بہر حال واپسی کے اشارے ہو رہے تھے۔ڈاکٹر