خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 379

379 خطبه جمعه فرمود 140 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو بہت تو بہ کرتا ہے، تو یہ نہ کرنے والا گناہ کی طرف جھکتا ہے اور گناہ آہستہ آہستہ کفر تک پہنچا دیتا ہے۔تمہارا کام یہ ہے کہ کوئی ما بہ الامتیاز بھی تو پیدا کرو تم میں اور تمہارے غیروں میں اگر کوئی فرق پایا جاوے گا تو جب ہی خدا بھی نصرت کرے گا“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 606 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوہ ) فرماتے ہیں ” تمہاری بیعت کا اقرار اگر زبان تک محدود رہا تو یہ بیعت کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی۔چاہیئے کہ تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 272 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر فرمایا ” پس ضروری ہے کہ جو اقرار کیا جاتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اس اقرار کا ہر وقت مطالعہ کرتے رہو۔(ذہنوں میں سوچتے رہو ) اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کا عمدہ نمونہ پیش کرو۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 605 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر فرماتے ہیں ایک طرف وعظ و نصیحت سنی جاتی ہے اور دل میں تقویٰ حاصل کرنے کے لئے جوش پیدا ہوتا ہے۔جتنی دیر جلسہ میں رہتے ہیں بعض لوگوں کو بڑا جوش پیدا ہو جاتا ہے۔فرماتے ہیں ” اور دل میں تقویٰ حاصل کرنے کے لئے بڑا جوش پیدا ہوتا ہے۔مگر پھر غفلت ہو جاتی ہے۔اس لئے ہماری جماعت کو یہ بات بہت یادرکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی حالت میں نہ بھلایا جاوے ہر وقت اسی سے مدد مانگتے رہنا چاہئے“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 279 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) کسی احمدی کی برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے کسی نے پوچھا کہ کیا اسے احمدی کہنا چاہئے یا کافر کہنا چاہئے۔اس پر آپ نے فرمایا: ”تم اپنے آپ کو سنبھالو اور اپنی حالت کو درست کرو۔ہر ایک کا معاملہ خدا کے ساتھ الگ ہے۔تم کو کس نے داروغہ بنایا ہے جو تم لوگوں کے اعمال کی پڑتال کرتے پھر واور ان پر کفر یا ایمان کا فتویٰ لگاتے پھرو۔مومن کا کام نہیں کہ بے فائدہ لوگوں کے پیچھے پڑ تا رہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ: 532-531 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس نیکیوں کو پھیلانے کی یہی اصل ہے کہ ہر ایک اپنے جائزے لے کر نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش کرے اور یہی چیز ہے جو جماعت کے تقویٰ کے معیار کو بڑھائے گی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ ”جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی کمزور ہو تو اس کے حق میں برا بولنے میں جلد بازی نہ کرو۔ملفوظات جلد پنجم صفحہ 20 جدید ایڈیشن مطبوعدر بوه) اس بارہ میں یہ بات بھی یادر کھنی چاہئے کہ آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ پہلے چالیس دن دعا کرو۔پھر اصلاح کی غرض سے اس کے سامنے اس کا ذکر کرو اور لوگوں میں پھیلانے کی بجائے وہاں بات پہنچاؤ جہاں اس کی اصلاح ہو سکے۔