خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 380

380 خطبه جمعه فرمود 14 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کو تو ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ دشمن پکار اٹھیں کہ گو یہ ہمارے مخالف ہیں مگر ہیں ہم سے اچھے۔اپنی عملی حالت کو ایسا درست رکھو کہ دشمن بھی تمہاری نیکی ، خدا ترسی، اتقاء کے قائل ہو جائیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 271 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوہ ) فرمایا یہ بھی یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کی نظر جذر قلب تک پہنچتی ہے“۔اصلی حالت جو دل کی ہے اس کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔پس وہ زبانی باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔زبان سے کلمہ پڑھنایا استغفار کرنا انسان کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے جب وہ دل و جان سے کلمہ یا استغفار نہ پڑھے۔بعض لوگ زبان سے استغفر اللہ کرتے جاتے ہیں۔مگر نہیں سمجھتے کہ اس سے کیا مراد ہے۔مطلب تو یہ ہے کہ پچھلے گناہوں کی معافی خلوص دل سے چاہی جائے اور آئندہ کے لئے گنا ہوں سے باز رہنے کا عہد باندھا جائے اور ساتھ ہی اس کے فضل اور امداد کی درخواست کی جائے“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 271 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ نصائح جو آپ نے جماعت کو کیں جن میں سے کچھ میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے ہر احمدی اگر اپنے جائزے لے کہ میں کس حد تک ان پر پورا اترتا ہوں تو یقیناً یہ اصلاح نفس کا باعث بنے گا۔ہمیں ان برکات سے فیضیاب کرنے والا بنائے گا جن کے حصول کی خواہش کے لئے ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے گا کہ ہم پھر اس کے فضلوں کو جذب کرتے چلے جائیں گے۔اللہ کرے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے عہد بیعت کو ہمیشہ نبھانے والے بنیں اور اس کے نتیجہ میں آپ علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بنتے رہیں۔خدا تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بنیں۔دنیا کی چمک دمک اور ہماری نفسانی اغراض کبھی ہمیں ان برکات سے محروم نہ کریں اور نہ کرنے والی بنیں جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے حقیقی رنگ میں وابستہ رہنے والوں کے لئے مقدر فرمائی ہیں۔جلسہ کے ان دنوں میں جہاں اپنے لئے دعا کریں وہاں اپنے ان بھائیوں کے لئے بھی دعا کریں ، ان کو بھی دعاؤں میں یا درکھیں جو پاکستان یا دنیا کے کسی بھی ملک میں احمدیت کی وجہ سے مخالفین کی سختیوں اور دشمنیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔آجکل ان میں پاکستان میں تو جو شدت ہے وہ ہے۔اس کے علاوہ ملائیشیا میں بھی احمدیوں کے خلاف کافی محاذ ہے۔حکومت کافی سرگرم ہے۔اور آج ملائیشیا کا جلسہ سالانہ بھی ہورہا ہے۔باوجود ساری پابندیوں کے بڑے مشکل حالات میں اپنا جلسہ بھی منعقد کر رہے ہیں۔ان لوگوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔اللہ تعالیٰ ان کا بھی جلسہ ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور کسی بھی قسم کی مشکل ان کو در پیش نہ ہو اور دشمن کے ہر حیلے اور حملے سے وہ محفوظ رہیں۔