خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 375
375 خطبه جمعه فرموده 14 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم خدا تعالیٰ کی خاطر روزے میں بھوکا رہتا ہے تا کہ اس کی رضا حاصل کرے۔اس سے کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرض عبادات اور نمازیں وغیرہ جو ہیں ان کو ادا نہیں کرے گا؟ اور اس کی تمام شرائط کے ساتھ نمازوں کو ادا کرنے کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوگی۔جو اپنا مال خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربان کرتا ہے۔یہ بھی ہو نہیں سکتا کہ وہ دھو کے سے دوسروں کا مال کھائے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جاری کردہ نظام وصیت میں کوئی شامل ہے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے شامل ہے تو ایسا شخص پھر مسلسل اس کوشش میں رہے گا اور رہنا چاہئے کہ وہ تقویٰ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے تمام حق جو ہیں وہ فرائض اور نوافل کی صورت میں ادا کرے اور بندوں کے تمام حقوق بھی فرائض اور نوافل کی صورت میں ادا کرے۔پس یہ وہ اصل جہاد ہے جو جب مستقل مزاجی سے کیا جائے، اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے کیا جائے تو ایک کے بعد دوسری نیکی کی طرف متوجہ کرتا چلا جاتا ہے یا دوسرے لفظوں میں خدا تعالیٰ پھر خود اپنی طرف آنے کے لئے راستے اسے دکھاتا چلا جاتا ہے اور ایک منزل کے بعد دوسری منزل کی طرف جانے کی طرف اللہ تعالیٰ پھر راہنمائی فرماتا رہتا ہے۔لیکن اس کے لئے عبادات بھی ضروری ہیں، استغفار بھی ضروری ہے ، ذکر الہی بھی ضروری ہے۔کمزوریوں کو ڈھانپے جانے کے لئے مستقل دعاؤں کی ضرورت ہے۔مستقل اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ توبہ استغفار وصول الی اللہ کا ذریعہ ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کو پانے کا ذریعہ ہے۔ان دنوں میں اس طرف بھی خاص توجہ دیں۔استغفار کی حقیقت اور اہمیت بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقے کے اندر لے لے۔یہ لفظ غَفَرَ سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سو اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغفِر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنی اور بھی وسیع کئے گئے ہیں۔اور یہ بھی مراد کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہوڈھانک لے لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مُسْتَغفِر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے۔کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قومی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے۔یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے۔پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا۔اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قبولیت کے ذریعے بگڑنے سے بچاوے۔پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے۔