خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 367

367 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 7 اگست 2009 ہوئی یہ مدت دراز کسی کا ذب کو نصیب نہیں ہوئی۔اور بعض نشان اس زمانے کی حالت دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں“۔(اور یہی حالت آج کل بھی اور امام کی ضرورت کا تقاضا کرتی ہے۔جب ہر جگہ ظهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : 42) کا نظارہ ہمیں نظر آتا ہے اور خاص طور پر مسلمان کہلانے والے جو ممالک ہیں ان میں سب سے زیادہ بے سکونی بڑھ رہی ہے اور فساد پیدا ہو رہا ہے۔فرماتے ہیں اور بعض نشان زمانہ کی حالت دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں یعنی یہ کہ زمانہ کسی امام کے پیدا ہونے کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے۔اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جس میں دوستوں کے حق میں میری دعا ئیں منظور ہوئیں۔اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو شر یہ دشمنوں پر میری بددعا کا اثر ہوا۔اور بعض نشان اس قسم کے ہیں میری دعا سے بعض خطر ناک بیماروں نے شفا پائی اور ان کی شفا سے پہلے مجھے خبر دی گئی۔اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے ممتاز لوگوں کو جو مشاہیر فقراء میں سے تھے خوا ہیں آئیں اور آنحضرت مہ کو خواب میں دیکھا۔جیسے سجادہ نشین صَاحِبُ العَلَمُ سندھ جن کے مرید ایک لاکھ کے قریب تھے اور جیسے خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے۔اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ ہزار ہا انسانوں نے محض اس وجہ سے میری بیعت کی کہ خواب میں ان کو بتلایا گیا کہ یہ سچا ہے اور خدا کی طرف سے ہے“۔(اور یہ نظارے ہم آج بھی دیکھتے ہیں ) اور بعض نے اس وجہ سے بیعت کی کہ آنحضرت علیہ کوخواب میں دیکھا اور آپ نے فرمایا کہ دنیا ختم ہونے کو ہے اور یہ خدا کا آخری خلیفہ اور مسیح موعود ہے۔اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو بعض اکابر نے میری پیدائش یا بلوغ سے پہلے میرا نام لے کر میرے مسیح موعود ہونے کی خبر دی۔جیسے نعمت اللہ ولی اور میاں گلاب شاہ ساکن جمال پور ضلع لدھیانہ۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 70-71) پھر آپ فرماتے ہیں ایک جگہ کہ ”جب میں 1904ء میں کرم دین کے فوجداری مقدمے کی وجہ سے جہلم میں جارہا تھا تو راہ میں مجھے الہام ہوا رِيكَ بَرَكَاتٍ مِنْ كُلّ طَرَفِ یعنی ہر ایک پہلو سے تجھے برکتیں دکھلاؤں گا۔اور یہ الہام اسی وقت تمام جماعت کو سنا دیا گیا بلکہ اخبار الحکم میں درج کر کے شائع کیا گیا اور یہ پیشگوئی اس طرح پر پوری ہوئی۔کہ جب میں جہلم کے قریب پہنچا تو تخمینا دس ہزار سے زیادہ آدمی ہو گا کہ وہ میری ملاقات کے لئے آیا اور تمام سڑک پر آدمی تھے اور ایسے انکسار کی حالت میں تھے کہ گویا سجدے کرتے تھے اور پھر ضلع کی کچہری کے اردگر داس قدر لوگوں کا ہجوم تھا کہ حکام حیرت میں پڑ گئے۔گیارہ سو آدمیوں نے بیعت کی اور قریباً دوسو کے عورت بیعت کر کے اس سلسلہ میں داخل ہوئی۔اور کرم دین کا مقدمہ جو میرے پر تھا خارج کیا گیا اور بہت سے لوگوں نے ارادت اور انکسار سے نذرانے دیئے اور تحفے پیش کئے اور اس طرح ہم ہر ایک طرف سے برکتوں سے مالا مال ہو کر قادیان میں واپس آئے اور خدا تعالیٰ نے نہایت صفائی سے وہ پیشگوئی پوری کی۔