خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 326 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 326

326 خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد هفتم میں اس کو یاد آیا کہ میں اپنی فلاں چیز بھول آیا ہوں وہ واپس آیا تو آپ کو بستر دھوتے دیکھ کر بڑا شرمسار ہوا۔( مثنوی مولانا رومی مترجم دفتر 5 صفحه 23 تا 25 ترجمه قاضی سجاد حسین۔الفیصل ناشران 2006ء ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائی کا ایک واقعہ بیان کیا ہے یا یہ وہی واقعہ ہے یا دوسرا کوئی واقعہ ہے لیکن بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ آپ کے اس عمل کو دیکھ کر وہ مسلمان ہو گیا۔تو یہ بے نفسی کی انتہا ہے۔بخاری کی ایک روایت ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی قوت قدسی سے جو عظیم انقلاب آپ کے صحابہ میں پیدا ہوا وہ بھی سنہری حروف سے لکھا جانے والا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسافر حضور ﷺ کے پاس آیا۔آپ نے اپنے گھر میں کہلا بھیجا کہ مہمان کے لئے کھانا بھجواؤ۔جواب آیا کہ پانی کے سوا آج گھر میں کچھ نہیں ہے۔اس پر حضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا اس مہمان کے کھانے کا بندوبست کون کرے گا۔ایک انصاری نے عرض کیا حضور میں انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ وہ گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ آنحضرت ﷺ کے مہمان کی خاطر مدارت کا انتظام کرو۔بیوی نے جواب دیا آج گھر میں صرف بچوں کے کھانے کے لئے ہے۔انصاری نے کہا اچھا کھانا تیار کرو۔پھر چراغ جلاؤ اور جب بچوں کے کھانے کا وقت آئے تو ان کو بہلا پھسلا کر تھپتھپا کر سلا دو۔چنانچہ عورت نے کھانا تیار کیا اور چراغ جلایا اور بچوں کو بھوکا ہی سلا دیا۔پھر جب مہمان کھانے کے لئے آیا تو چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھی اور جا کر چراغ بجھا دیا۔پھر دونوں مہمان کے ساتھ بیٹھ کر بظاہر کھانے کی آوازیں نکالتے رہے اور مہمان بھی یہ سمجھتا رہا کہ میرے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔اس طرح مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور وہ خود بھوکے سو گئے۔صبح جب انصاری حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہنس کر فر مایا کہ تمہاری رات کی تدبیر سے تو اللہ تعالیٰ بھی ہنسا ہے۔اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ | وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ۔وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأَوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر : 10) یعنی یہ پاک باطن اور ایثار پیشہ مخلص لوگ جو ہیں اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ وہ خود ضرورت مند اور بھوکے ہوتے ہیں اور جو نفس کے بخل سے بچائے گئے وہی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔( بخاری کتاب مناقب الانصار باب یو ثرون على انفسهم ولو کان بهم خصاصة حديث 3798) پھر آنحضرت ﷺ کے پاس ایک گروپ ایسے مہمانوں کا تھا جو مستقل آپ کے در پر پڑے رہتے تھے۔صرف اس لئے کہ آنحضرت مے کی کوئی بات سننے سے رہ نہ جائے اور یہ ان کا امت پر بھی احسان ہے ، ہم پر بھی احسان ہے کہ اس حالت میں رہ کر ہم تک روایات اور احادیث پہنچائی ہیں۔مالک بن ابی عامر سے ایک لمبی روایت ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص طلحہ بن عبید اللہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ اے ابومحمد تم اس یمانی شخص یعنی ابو ہریرہ