خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 319 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 319

319 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہو جاتا تھا اور یہ کہنا کہ ” حضرت عیسی نبوت سے معطل ہو کر آئے گا“ نہایت بے حیائی اور گستاخی کا کلمہ ہے۔کیا خدا تعالیٰ کے مقبول اور مقرب نبی حضرت عیسی جیسے اپنی نبوت سے معطل ہو سکتے ہیں۔( یہ اگر کہا جائے کہ وہ نبوت سے معطل ہو کر آئیں گے تو یہ بھی نہایت گستاخی کی بات ہے کیونکہ پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک رتبہ دیا اور نبوت کا مقام دے کر اور قرآن کریم میں ذکر کر کے اور ہر طرح کے الزامات سے بری کر کے ان کے رفع کے بارہ میں فرمایا اور پھر اللہ تعالیٰ کہہ دے کہ نہیں اب نبوت تمہاری ختم ہوگئی۔) فرمایا ” پھر کون سا راہ اور طریق تھا کہ خود حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں آتے۔غرض قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا نام خاتم النبین رکھ کر اور حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے لا نبی بعدی فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے آنحضرت کو کے بعد نہیں آسکتا اور پھر اس بات کو زیادہ واضح کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ آنے والا مسیح موعود اس اُمت میں سے ہوگا۔چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث اِمَامُكُمُ مِنكُمُ اور صحیح مسلم کی حدیث فَامَّكُمُ مِنكُمُ جو عین مقام ذکر مسیح موعود میں ہے صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ وہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا“۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 217-218 - حاشیہ) یہاں ایک اور بات کی وضاحت بھی کرنا چاہتا ہوں کہ اس زمانے میں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا کہ مسیح موعود اسی امت میں سے آئے گا اور یہ بلند مقام اس کو خدا تعالیٰ نے دیا اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اس بلند مقام کے بعد جو آپ کو آنحضرت ﷺ کی پیروی میں ہونے کی وجہ سے ملا ، آپ سے عشق و محبت کی وجہ سے ملا۔آپ کو نبی بھی کہا گیا اور رسول بھی۔بعض احمدی بھی ہیں جن کا صحیح مطالعہ نہیں ، یا جماعت کے ساتھ پورے طور پر منسلک نہیں۔خطبات اور پروگرام وغیرہ نہیں دیکھتے اور سنتے یا نئے شامل ہونے والے ہیں جن کو تربیت کی کمی ہے یا مداہنت وجہ ہے یا کسی اور وجہ سے پوری طرح حق کا اظہار نہیں کر سکتے۔وہ بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی کہنے پر سوچ میں پڑ جاتے ہیں یا پوری طرح دوسروں کے سامنے اظہار نہیں کرتے۔یا یہ کہ اگر نبی مان لیا تو پھر یہ کہہ دیا کہ رسول نہیں ہے۔یہ جو چیز ہے اور جو ایسی باتیں ہیں وہ جماعتی تعلیم کے خلاف ہیں حضرت مسیح موعود کے دعوئی کے خلاف ہیں۔بعض شکایات مجھے پہنچی ہیں، ان ہی ملکوں میں سے بعض جگہ بعض لوگ اس قسم کی باتیں کر دیتے ہیں۔اپنی تبلیغ کرتے ہوئے بھی بعض باتیں کر دیتے ہیں۔یا آپس میں جب غیروں کے ساتھ مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تو اس طرح کی باتیں ہو جاتی ہیں۔تو اس بارہ میں واضح ہو جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ آنے والے مسیح و مہدی کو آنحضرت ﷺ کی پیروی میں نبوت کا مقام بھی ملنا تھا اور رسول ہونے کا بھی اور یہ دونوں چیزیں نبی ہونا اور رسول ہونا ایک ہی بات ہے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک الہام قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي |