خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 282

282 خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 خطبات مسرور جلد هفتم فیصلے کرنے والے تھے اور کفار اس زمانے کے آپ سے فیصلے کروایا کرتے تھے اور حق کی طرف جھکی ہوئی تھی آپ کی طبیعت۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی وحی بھی اس فطرت کے مطابق نازل ہوئی۔یا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس فطرت کے ساتھ پیدا فرمایا جس میں نہ افراط ہو اور نہ تفریط ہو۔تا کہ وہ وحی الہی جو آپ پر اترنی ہے۔جس نے دین کو ہر لحاظ سے کامل کرنا ہے اس کے آپ صحیح پر تو بن سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا تو ریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کی فطرت میں، حضرت عیسی علیہ السلام کی فطرت میں حلم اور نرمی تھی سوانجیل کی تعلیم بھی علم اور نرمی پر مشتمل ہے۔مگر آنحضرت ﷺ کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقع تھا۔نہ ہر جگہ حلم پسند تھا، نرمی پسند تھی اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا۔بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقع کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی۔یعنی موقع اور محل کے لحاظ سے آپ فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔سو جہاں تختی کی ضرورت ہے وہاں تختی جہاں نرمی کی ضرورت ہے۔وہاں نرمی۔سو قرآن شریف بھی اسی طرز موزوں و معتدل پر نازل ہوا اور یہی تعلیم پھر قرآن کریم لے کر آیا کہ جامع شدت و رحمت و هیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔قرآن کریم کی تعلیم میں شدت بھی ہے ، رحمت بھی ہے ، جہاں ڈرانے کی ضرورت ہے ہیبت ، خوف بھی دلایا گیا ہے۔جہاں شفقت و نرمی کی ضرورت ہے وہاں شفقت و نرمی بھی موجود ہے جہاں نرمی کی ضرورت ہے وہاں نرمی موجود ہے۔جہاں ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت ہے وہاں درشتی موجود ہے۔سواس جگہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا کہ چراغ وہی فرقان اس شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے۔“ تو آنحضرت ﷺ کی جو فطرت تھی اس کے مطابق پھر جو اللہ تعالیٰ کی وحی تھی قرآن کریم کی ، اس سے یہ شجرہ مبارک جو ہے آنحضرت ﷺ کا وجود جو ہے وہ روشن کیا گیا کہ نہ شرقی ہے نہ غربی ہے اور یہی قرآن کریم کی تعلیم کا ایک منفر داور بلند مقام ہے جس کو کوئی بھی سابقہ تعلیم نہیں پہنچ سکتی۔اور یہی مقام آنحضرت ﷺ کا بھی ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ ( القلم : 5 ) یعنی تو اے نبی ! ایک خلق عظیم پر مخلوق ومفطور ہے۔یعنی اسی پر پیدا کیا گیا ہے اور تیری فطرت میں یہ رکھا گیا ہے۔یعنی اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا تم مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں“ کیونکہ جو انسانی سوچ جاسکتی تھی اعلیٰ اخلاق کی اور ہر قسم کی خصوصیات کی وہ انسان کامل میں، آنحضرت میﷺ کی ذات میں موجود ہے اور اس سے زیادہ تصور ہی نہیں کی جاسکتی۔” کیونکہ لفظ عظیم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔عظیم جو ہے وہ ایسی صفت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی کسی چیز کی استعدادیں ہیں انتہائی کسی ،،