خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 250
250 خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہر ایک کی ذہنی، جسمانی علمی، معاشی، روحانی وسعت کے لحاظ سے ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے مرتبہ علمی اور عقلی اور جسمانی اور معاشی اور روحانی کے لحاظ سے احکام بجالانے کا پابند اور قابل مواخذہ ہے۔لیکن جو فرائض اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں انہیں اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بجالانا بہر حال ہر مومن پر فرض ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک دیہاتی شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام کے بارہ میں پوچھا آپ نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا۔اس پر اس نے پوچھا کہ اس کے علاوہ بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں، ہاں اگر نفل پڑھنا چاہو تو پڑھ سکتے ہو۔پھر آنحضور ﷺ نے فرمایا ایک ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔اس نے پوچھا اس کے علاوہ بھی روزے فرض ہیں آپ نے فرمایا نہیں۔ہاں نفلی روزے رکھنا چاہو تو رکھ سکتے ہو۔اسی طرح آنحضرت ﷺ نے زکوۃ کا بھی ذکر فرمایا اس نے اس پر پوچھا عرض کیا کہ اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ہاں ثواب کی خاطر تم نفلی صدقہ دینا چاہو تو دے سکتے ہو۔اس پر وہ شخص یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ خدا کی قسم نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کم۔تو آپ ﷺ نے فرمایا وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو کہ اگر یہ بیچ کہتا ہے تو اسے کامیاب وکامران سمجھو۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الصلوات التی تھی احدار کان الاسلام حدیث نمبر (9) تو جو جو استعدادیں ہیں ہر ایک کی اس کے مطابق وہ عمل کرتا ہے۔کچھ تو آپ نوافل کی تلقین بھی فرمایا کرتے تھے۔پھر نویں بات یہ کہ قرآن کریم کے تمام احکامات قابل عمل ہیں۔اس کا مختصر ذکر پہلے بھی آچکا ہے اور رنگ میں۔کوئی بھی ایسا حکم نہیں جو انسان پر بوجھ ہو۔جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر عمل کرنے کے ضمن میں میں نے بتایا کہ ذکر ہوا ہے کہ حقیقی مومن اُن پر چلتا ہے اور چلنے کی کوشش کرتا ہے۔اور حضرت عائشہ نے جیسا کہ فرمایا کہ آ نحضرت ﷺ کے اخلاق اور زندگی قرآن کریم کے احکامات کی عملی تصویر ہیں۔“ ( مسند احمد بن حنبل مسند عائشہ جلد نمبر 8 صفحہ 305 حدیث نمبر 25816 عالم الكتب بیروت ایڈیشن 1998ء) پس اپنی اپنی حیثیت اور استعدادوں کے مطابق ہر ایک کو ان پر عمل کرنے کا حکم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا دعوی ہے کہ کیونکہ وہ کسی مومن کو بھی بلا وجہ تکلیف میں نہیں ڈالتا۔اس لئے جو بھی احکامات ہیں ہر انسان کی عمل کرنے کی طاقت کے اندر ہیں۔پھر دسویں بات یہ کہ اللہ تعالیٰ چی خوا میں بھی ہر انسان کو اس لئے دکھاتا ہے تا کہ اُسے انبیاء کی وحی والہام کا کچھ حد تک ادراک ہو سکے۔اگر کبھی سچی خواب ہی نہ آئی ہوتو وہ انبیاء کے دعوے کو بھی محض جھوٹ سمجھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی والہام کے سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے اور وہ ودیعت خواب ہے۔اگر کسی کو کوئی خواب سچی