خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 217 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 217

217 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 8 مئی 2009 وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔کئی لوگ خط لکھ کر اس کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کے رزق میں اتنی برکت پڑی کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔جان قربان کرنے والوں کو اموال و نفوس میں اتنی برکت دیتا ہے کہ ان کی اولادوں کی سوچ سے بھی باہر ہے۔کئی احمدی خاندان ہیں جن کے افراد نے احمدیت کی خاطر شہادت کا رتبہ حاصل کیا اور ان کی اولادیں اور ان کے عزیز اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ شہادتیں اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ان پر بے انتہا برکات اور فضل نازل کرنے کی وجہ بنیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بے انتہا نظارے دیکھے۔اس خدا کے جو وَاسِعُ ہے اور علیم بھی ہے۔علیم کہ کر تو یہاں اس طرف بھی توجہ دلائی کہ تمہاری قربانیاں تمہارے اعمال اس کے علم میں ہیں۔آئندہ بھی جو عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوگا تو واسخ خدا اپنے وسیع تر فضلوں سے تمہاری تو قعات سے بڑھ کر تمہیں حصہ دیتا رہے گا۔پس یہ بنیادی نکتہ ہے جو ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مزید احسان کس طرح کرتا ہے یہ دیکھیں کہ اپنی تو بہ اور استغفار اور نیک اعمال اور قربانیاں جو ہیں وہی اس کی بخشش کے سامان نہیں کر رہی ہوتیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وسیع تر رحمت سے فرشتوں کو بھی اس کام پر لگایا ہوا ہے کہ جو بندے ایمان لانے والے ہیں اور توبہ کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی راہ پر چلنے کی کوشش کرنے والے ہیں اس کی خاطر قربانیاں دینے والے ہیں ان کے لئے بخشش طلب کرو۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ سورۃ مومن میں فرماتا ہے کہ الَّذِيْنَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْ ءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ ـ (المومن : 8) کہ وہ جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے گرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں جو ایمان لائے۔اے ہمارے رب تو ہر چیز پر رحمت اور علم کے ساتھ محیط ہے۔پس وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ کی پیروی کی ان کو بخش دے اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا۔یہاں عرش کو اٹھائے ہوئے سے مراد فرشتے ہیں۔سورۃ الحاقہ میں واضح طور پر فرشتوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ قیامت کے دن وہاں آٹھ فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔بہر حال یہاں عرش اٹھانے والوں سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں یا وہ صفات ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فرشتے مامور کئے گئے ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں یعنی رب ہے رحمن ہے رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔جو اس دنیا میں انسان کے کام آتی ہیں۔بنیادی صفات پر جو ایمان لانے والے ہیں اور ایمان لانے کے بعد تو بہ کی طرف توجہ کرنے والے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور نیک اعمال بجالانے والے ہیں ان کے لئے فرشتے بھی دعا کرتے ہیں خاص طور پر وہ فرشتے جن کے