خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 216

216 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 8 مئی 2009 قربانیوں سے دور جا کر اور فَحْشَاء سے قریب ہو کر اس کے پیچھے دنیا دار چل رہا ہوتا ہے اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ وہ کیا کر رہا ہے۔شیطان ایسے بندوں کو اپنے پیچھے چلا کر اپنی اس بات کو پورا کر رہا ہے کہ میں انسانوں کی اکثریت کو خدا تعالیٰ سے دور کر دوں گا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شیطان کے اس مکارانہ فعل سے ہوشیار رہو۔وہ بڑی مکاری سے تمہیں ورغلاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی طرف آؤ کہ یہی تمہاری زندگی کا مقصود ہے اور اس کا طریق یہ ہے کہ تو بہ کرتے ہوئے اس کی طرف جھکو تو اللہ تعالیٰ تم سے بخشش کا وعدہ کرتا ہے۔تمہارے پچھلے گنا ہوں اور غلطیوں کو معاف کرے گا اور آئندہ تمہیں نیکیوں اور قربانیوں کی توفیق دیتے ہوئے تمہارے لئے بخشش اور فضل کے سامان فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں يَعِدُكُمُ کے الفاظ استعمال کر کے یہ تسلی دلائی ہے کہ اگر حقیقی تو بہ ہوگی تو بخشش یقینی ہے۔اور صرف بخشش ہی نہیں بلکہ اس کے فضل کے بھی ایسے دروازے کھلیں گے کہ انسان کی سوچ سے بھی باہر ہوں گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے جس پہلے عمل کی طرف توجہ دلائی ہے وہ جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں فقر سے ڈرانا ہے۔یعنی قربانیوں کے نتیجے میں ، غربت اور نہ صرف غربت بلکہ اس حد تک تباہ حالت کہ جس طرح ریڑھ کی ہڈی کے بغیر انسان کھڑا نہیں ہوسکتا تو شیطان دل میں ڈالتا ہے کہ ان قربانیوں کی وجہ سے تم کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں رہو گے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان جھوٹ بولتا ہے۔قیامت کے دن اس نے تو اپنی ان باتوں سے مگر جانا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تمہارے سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ تمہاری بخشش کے سامان کرے گا۔اس کے نتیجہ میں جہاں اس دنیا میں اپنے انعامات سے نوازے گا وہاں اُخروی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے یہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ اس کو اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے گا۔پھر شیطان جو ہے وہ فحشاء کا حکم دیتا ہے جس کے کرنے سے اس دنیا میں بھی انسان کئی قسم کی مشکلات میں گرفتار ہو جاتا ہے۔بعض قسم کے گند اور بیہودگیاں جن سے انسان بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔کئی قسم کے نقصانات اس کو اٹھانے پڑتے ہیں جو دنیاوی نقصانات بھی ہیں اور آخری زندگی میں عذاب کی صورت میں اس کو ملتے ہیں۔لیکن ایک مومن سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس پر اپنے فضلوں کو بڑھائے گا اور بڑھاتا چلا جائے گا اور برکتوں کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔جو دنیا اور آخرت میں انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتے ہوئے اس کے درجات میں ترقی کا باعث بنیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وعدہ اس خدا کا وعدہ ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے وہ واسع ہے۔اس کے پاس فضلوں کے نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں۔آج ایک احمدی جو کسی بھی قسم کی قربانی کرنے والا ہے یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قربانی کے نتیجہ میں ایسے فضل فرماتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ کس کس طریقے سے اس کی اللہ تعالی مددفرما رہا ہے۔مالی قربانی کرنے والوں کے مالوں میں اتنی وسعت دیتا ہے کہ بعض اوقات ان کے