خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 192

خطبات مسرور جلد هفتم 192 خطبہ جمعہ فرمود ه 24 اپریل 2009 مطلب ہے وہ ذات جو اپنی مخلوق میں سے جس تک چاہتی ہے فائدہ کو پہنچاتی ہے۔کیونکہ وہ ہر نفع اور نقصان اور ہر خیر اور شر کا پیدا کرنے والا ہے۔اس لغوی وضاحت کے بعد اب میں احادیث کی روشنی میں یہ بیان کروں گا کہ ایک مومن پر اس لفظ کو کس طرح اطلاق پانا چاہئے۔ایک مومن ایک دنیا دار کی طرح صرف اپنے فائدہ کی نہیں سوچتا بلکہ دوسروں کا فائدہ بھی سوچتا ہے اور اس کو سوچنا چاہئے۔قرآن کریم میں بھی ہمیں یہی تعلیم ہے اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات جواحادیث سے ہمیں ملے ہیں وہ بھی یہی بیان کرتے ہیں۔اور اس فائدہ پہنچانے کے مختلف طریقے ہیں جو آنحضرت ﷺ نے ہمیں بتائے ہیں۔اس بارہ میں بعض احادیث پیش کرتا ہوں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کو نفع پہنچانے کے بارے میں آنحضرت علیہ کے کیا ارشادات ہیں۔سعید بن ابی بُردہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا سے ( حضرت ابو موسیٰ اشعری ان کے دادا تھے ) انہوں نے نبی کریم اللہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔لوگوں نے کہا: یا نبی اللہ ! جوشخص طاقت نہ رکھے؟ آپ نے فرمایا وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرے۔خود بھی فائدہ اٹھائے اور صدقہ بھی دے۔انہوں نے کہا اگر یہ بھی نہ ہو سکے؟ آپ نے فرمایا حاجتمند ، مصیبت زدہ کی مدد کرے۔انہوں نے کہا اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ؟ آپ نے فرمایا: چاہئے کہ اچھی بات پر عمل کرے اور بدی سے باز ر ہے۔یہی اس کے لئے صدقہ ہے۔( صحیح بخاری کتاب الادب۔باب کل معروف صدقۃ حدیث (6022 پھر اسی طرح ایک حدیث ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے راستے میں درخت کی ایک شاخ پڑی دیکھی تو اس نے کہا اللہ کی قسم ہمیں اس کو ضرور ہٹا دوں گا تا کہ اس سے مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچے۔اس پر اسے جنت میں داخل کر دیا گیا۔صحیح مسلم۔کتاب البر والصلۃ باب فضل از التۃ الاذى عن الطریق۔حدیث نمبر 6565 ) پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جس نے ایسے علم کو چھپایا جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کے معاملات اور دین کے امور میں نفع پہنچا سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو قیامت کے روز آگ کی لگام پہنائے گا۔(سنن ابن ماجہ۔باب من سئل عن علم فکتمہ حدیث نمبر 265) پس ایک مومن کے لئے اپنا مال بڑھانے اور مالی مفاد حاصل کرنے میں ہی نفع نہیں ہے بلکہ اصل منافع وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے سے ملتا ہے۔جو دائمی ہے اور جس کے کھاتے اگلے جہان میں کھلتے ہیں۔ان